LIVE
Loading Breaking News...

بھارت اور فرانس کی دفاعی شراکت داری: رافیل اور اسکارپین معاہدے

News Image
بھارت اور فرانس نے اپنے دفاعی اور تزویراتی تعلقات کو ایک نئی سطح پر پہنچاتے ہوئے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار پر اتفاق کیا ہے۔ یہ شراکت داری جدید لڑاکا طیاروں اور آبدوزوں کی تیاری میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرے گی۔
بھارت اور فرانس نے اپنے باہمی تعلقات کو 'خصوصی عالمی تزویراتی شراکت داری' کی سطح تک پہنچا دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد دفاعی ٹیکنالوجی، عسکری خود انحصاری اور جدید ہتھیاروں کی مشترکہ تیاری میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے مابین ہونے والے دفاعی معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ نہ صرف ہتھیاروں کی خریداری بلکہ مشترکہ ڈیزائننگ اور مینوفیکچرنگ کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس شراکت داری میں رافیل لڑاکا طیاروں کی مزید خریداری اور اسکارپین کلاس کی آبدوزوں کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس سے بھارتی بحریہ اور فضائیہ کی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔ اس عسکری تعاون کا دائرہ کار صرف موجودہ ہتھیاروں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ مستقبل کی ٹیکنالوجی پر بھی محیط ہے۔ دونوں ممالک اب چھٹی نسل کے جنگی طیاروں کی مشترکہ تیاری اور جدید ترین جیٹ انجن ٹیکنالوجی کی منتقلی پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ فرانسیسی کمپنیوں کی جانب سے بھارتی دفاعی صنعت کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی شیئرنگ کا یہ عمل بھارت کے 'میک اِن انڈیا' پروگرام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔ اس تعاون سے بھارتی ڈیفنس مینوفیکچرنگ سیکٹر کو عالمی معیارات کے مطابق جدید آلات تیار کرنے میں مدد ملے گی، جو طویل مدت میں بھارت کی دفاعی برآمدات میں بھی اضافے کا باعث بنے گا۔ تزویراتی نقطہ نظر سے، فرانس بھارت کا ایک قابل اعتماد شراکت دار ثابت ہوا ہے، خاص طور پر ان حساس ٹیکنالوجیز کے حوالے سے جنہیں فراہم کرنے میں دیگر مغربی ممالک تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ ہند-بحر الکاہل کے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سمندری حدود کی نگرانی اور بحری مشقوں میں اضافہ بھی اس شراکت داری کا لازمی حصہ ہے۔ اس کے علاوہ، خلائی دفاع اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں بھی دونوں ممالک کے ماہرین مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ تجربات شیئر کر رہے ہیں، جو مستقبل کے ہائبرڈ جنگی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط ڈھانچہ فراہم کرے گا۔ خلاصہ یہ کہ بھارت اور فرانس کے درمیان یہ گہرا دفاعی اتحاد نہ صرف دونوں ممالک کی قومی سلامتی کو تقویت دے رہا ہے بلکہ یہ علاقائی طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں جب چھٹی نسل کے طیارے اور جدید ترین آبدوزیں بھارتی بیڑے کا حصہ بنیں گی، تو یہ شراکت داری دنیا کے سب سے کامیاب دفاعی اتحادوں میں شمار ہوگی۔ اس مسلسل بڑھتے ہوئے تعلق سے دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف اعتماد کی فضا قائم ہوئی ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط عسکری اتحاد بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔