LIVE
Loading Breaking News...

پیپلز پارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم کے سندھ کی تقسیم کے مطالبات پر ردعمل

News Image
پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے ایم کیو ایم کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے صوبائی خودمختاری کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے ایم کیو ایم پر کراچی کے وسائل کے استحصال کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے مستحکم صوبے کے مفاد کے منافی عمل قرار دیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ کی تقسیم کے مطالبات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ملک کی سالمیت اور صوبائی ہم آہنگی کے خلاف ایک خطرناک اقدام قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سندھ کی جغرافیائی حدود کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے اور ایسی باتیں صرف لسانی تعصبات کو ہوا دینے کے مترادف ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سندھ ایک اکائی ہے اور اس کے عوام صوبے کی تقسیم کے کسی بھی ایجنڈے کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے بار بار صوبے کو تقسیم کرنے کی دھمکیاں دراصل ان کی ناکام سیاسی حکمت عملی کا ثبوت ہیں۔ دوسری جانب ارسلان خالد اور دیگر سیاسی مبصرین نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اتحاد صرف کراچی کے وسائل کے استحصال کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں۔ خاص طور پر کراچی جیسے بڑے شہر میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بجائے اسے سیاسی آلہ کار بنانا شہریوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس صورتحال پر عام شہریوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ شہر کو سیاسی جوڑ توڑ کا مرکز بنا دیا گیا ہے جس سے بنیادی سہولیات کی فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ سندھ کی تقسیم کا معاملہ ایک پرانا سیاسی کارڈ ہے جسے انتخابات کے قریب یا سیاسی دباؤ کے وقت نکالا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع بشمول کراچی، سندھ کا اٹوٹ انگ ہیں اور ان کے درمیان تفریق پیدا کرنا ملک دشمنی ہے۔ جبکہ ایم کیو ایم کے حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اور انتظامی بنیادوں پر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا مطالبہ ان کا حق ہے۔ اس کشمکش نے سندھ کے سیاسی ماحول کو ایک بار پھر گرم کر دیا ہے، جس سے نہ صرف سیاسی تلخی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی نئی بحث چھڑ گئی ہے۔