LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا زلزلہ: 53 ہلاکتیں اور ہزاروں افراد بے گھر

News Image
انڈونیشیا میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں اب تک 53 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور تقریباً 13 ہزار شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے لیکن آفٹر شاکس کے باعث امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انڈونیشیا کے ساحلی علاقوں میں آنے والے ایک انتہائی شدید اور تباہ کن زلزلے نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد اب تک ہلاکتوں کی تعداد 53 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کے مطابق زلزلے کی شدت اور تباہ کاریوں کے پیش نظر تقریباً 13 ہزار افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکوں کے بعد سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے اور ہزاروں شہری عارضی کیمپوں میں پناہ لینے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ ریسکیو اور امدادی ادارے تاحال متاثرہ علاقوں میں سرگرم عمل ہیں تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا سکے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ تاہم، مقامی حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ زلزلے کے بعد مسلسل آنے والے آفٹر شاکس (زلزلے کے جھٹکے) امدادی ٹیموں کے کام میں شدید رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ آفٹر شاکس کے خوف کے باعث ریسکیو ورکرز کو محتاط رہ کر کام کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انڈونیشیا کے ساحل کے قریب آنے والے اس 7.7 شدت کے زلزلے نے رہائشی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین ارضیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے کچھ دن انتہائی اہم ہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازمی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام بھی جزوی طور پر متاثر ہوا ہے، جس کے باعث رابطہ سازی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے بھی انڈونیشیا کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا جا رہا ہے۔ متاثرین اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ انہیں خوراک، صاف پانی اور خیموں کی فوری ضرورت ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی حالات کچھ معمول پر آئیں گے، متاثرہ علاقوں میں سروے کا کام شروع کیا جائے گا تاکہ نقصانات کا حتمی اندازہ لگایا جا سکے۔ فی الحال تمام تر توجہ انسانی جانوں کو بچانے اور ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے افراد کی تلاش پر مرکوز ہے۔ ریسکیو ٹیمیں اور رضاکار دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچائی جا سکیں۔