LIVE
Loading Breaking News...

لبنان پر اسرائیلی حملے اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

News Image
لبنان میں حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں جس سے خطے میں کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے تعطل کا شکار مذاکرات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ فضائی حملوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان حملوں میں کم از کم گیارہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو جون کے بعد سے ہونے والی اب تک کی سب سے زیادہ ہلاکت خیز کارروائی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود جاری یہ کارروائیاں خطے میں امن کی امیدوں کو مزید دھندلا رہی ہیں۔ ان حملوں نے نہ صرف لبنان کی داخلی صورتحال کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے معطل مذاکرات پر پڑ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے ایران کے لیے اپنے موقف پر نظرثانی کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جبکہ امریکہ پر بھی یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری اس تازہ کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں بھی اضطراب دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاط برتنے کا رجحان سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کی جا رہی ہیں، تاہم بین الاقوامی برادری ان حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ لبنان کی جانب سے ان حملوں کو ملکی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔ ابھی تک امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آ رہی، اور مبصرین کا ماننا ہے کہ جب تک جنوبی لبنان کی صورتحال پر سکون نہیں ہوتی، سفارتی سطح پر کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنا ناممکن ہو گا۔