LIVE
Loading Breaking News...

وزن کم کرنے والی ادویات: مردوں میں چھپی ہوئی شرمندگی اور حقیقت

News Image
وزن کم کرنے والی انجیکشنز کا استعمال مردوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے لیکن بہت سے لوگ اسے سماجی دباؤ اور شرمندگی کی وجہ سے ظاہر نہیں کرتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طبی عمل کو 'شارٹ کٹ' یا دھوکا سمجھنا ایک غلط فہمی ہے جس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
جدید طبی سائنس کے ارتقاء کے ساتھ وزن کم کرنے والی مختلف ادویات اور خاص طور پر انجیکشنز کا استعمال دنیا بھر میں ایک معمول بن چکا ہے۔ تاہم، ایک دلچسپ اور تشویشناک رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ مردوں کی ایک بڑی تعداد ان ادویات کے استعمال کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔ معاشرتی رویوں کے پیش نظر، بہت سے مرد اس بات کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی جسمانی ساخت کو بہتر بنانے یا وزن کم کرنے کے لیے طبی مدد لی ہے۔ اس کے پیچھے بنیادی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ مردوں میں 'ذاتی محنت' کو ہی کامیابی کا واحد معیار مانا جاتا ہے۔ کئی مردوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر وہ ورزش یا سخت ڈائٹ کے بجائے کسی دوا یا انجیکشن کا سہارا لیتے ہیں تو یہ ایک طرح کا 'شارٹ کٹ' یا 'دھوکا' ہے۔ یہ سماجی تصور کہ وزن کم کرنا صرف پسینہ بہانے اور سخت جسمانی مشقت سے ہی ممکن ہونا چاہیے، مردوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس احساسِ کمتری کی وجہ سے وہ اپنی صحت کی بہتری کے لیے کیے جانے والے طبی اقدامات کو خفیہ رکھنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ شرمندگی دراصل اس فرسودہ تصور سے جڑی ہے جس میں مردانگی کو صرف جسمانی طاقت سے جوڑا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کی رائے میں یہ رجحان صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ چھپ کر ادویات کا استعمال کرنے سے نگرانی کا فقدان پیدا ہوتا ہے۔ وزن کم کرنے والی ادویات، خواہ وہ انجیکشن کی شکل میں ہوں یا گولیوں کی صورت میں، ہمیشہ کسی مستند ڈاکٹر کی زیرِ نگرانی استعمال ہونی چاہئیں۔ جب کوئی شخص ان کے استعمال کو سماجی دباؤ کے باعث چھپاتا ہے، تو وہ ڈاکٹر سے اہم مشورے لینے سے بھی محروم رہ جاتا ہے، جس سے سنگین سائیڈ ایفیکٹس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ اس موضوع پر کھل کر بات کی جائے تاکہ اسے کسی شرمندگی کا نہیں بلکہ ایک طبی عمل کا درجہ دیا جائے۔ مستقبل میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سماجی شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک معاشرہ وزن کم کرنے کو ایک 'ذاتی کامیابی' کے بجائے 'صحت مند طرزِ زندگی' کے طور پر نہیں دیکھے گا، تب تک مرد حضرات اس طرح کے طبی علاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار رہیں گے۔ صحت کے مسائل پر بات کرنا کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی ہے، اور وزن کم کرنے کے لیے طبی مدد حاصل کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔