LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کامیابی کا دعویٰ

News Image
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک اہم بیان میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے اس فتح کو عسکری اور سیاسی محاذوں پر ایران کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ملک کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری محاذ آرائی میں اپنی کامیابی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ قالیباف نے کہا کہ ایران نے نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی سطح پر بھی اپنے حریفوں کو شکست دی ہے، جو کہ تہران کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور عالمی طاقتیں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ اپنے خطاب میں محمد باقر قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی مسلح افواج اور سیاسی قیادت کی حکمت عملی نے دشمنوں کے تمام تر منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو تنہا کرنے کی کوششیں بری طرح ناکام ہوئی ہیں اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران کا اثر و رسوخ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فتح صرف ایران کی نہیں بلکہ ان تمام قوتوں کی ہے جو سامراجی عزائم کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قالیباف کا یہ بیان ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں ایک نئے جوش و خروش کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے قبل بھی ایرانی حکام متعدد بار یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ مغربی پابندیوں اور عسکری دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ تاہم، عالمی برادری کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ اس طرح کے بیانات سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل مسلسل ایران کی علاقائی پالیسیوں کو اپنے مفادات کے خلاف قرار دیتے آئے ہیں۔ آئندہ دنوں میں اس بیان کے بعد خطے میں سفارتی سطح پر کیا پیش رفت ہوتی ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔ ماہرینِ سیاسیات کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے فتح کا یہ دعویٰ مذاکرات کی میز پر تہران کے مؤقف کو مزید مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ تہران کی قیادت اب اپنے اس بیانیے کو مزید جارحانہ انداز میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی پوزیشن کو منوایا جا سکے اور خطے میں جاری کشیدگی کو اپنے حق میں استعمال کیا جا سکے۔