LIVE
Loading Breaking News...

فلسطینی خواتین پر اسرائیلی حملے نسل کشی کے مترادف ہیں: ماہرین

News Image
بین الاقوامی قانون کے ماہر اور وکیل احمد ابسائس نے فلسطینی خواتین کو نشانہ بنانے کے اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی قانون ان مخصوص مظالم کو نظر انداز کر رہا ہے جو فلسطینی خواتین کو درپیش ہیں۔
ایک ممتاز فلسطینی وکیل احمد ابسائس نے حالیہ بیان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی خواتین کو ہدف بنانے کے عمل کو نسل کشی کی ایک منظم شکل قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ بین الاقوامی برادری اور عالمی قوانین اب تک اس مخصوص پہلو کو نظر انداز کر رہے ہیں، حالانکہ جنگ کے دوران خواتین کی اموات اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کسی بھی قوم کی نسل کشی کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ احمد ابسائس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جاری جنگی کارروائیوں میں جس طرح دانستہ طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ نسل کشی کے بین الاقوامی کنونشن کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ وکیل موصوف کے مطابق، جب کسی معاشرے کی خواتین کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جائے تو اس کا مقصد صرف انفرادی جانوں کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ہدف پورے سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور نسل کو آگے بڑھنے سے روکنا ہوتا ہے۔ انہوں نے عالمی عدالتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ اس مسئلے کو 'صنفی بنیاد پر نسل کشی' کے طور پر تسلیم کیا جائے تاکہ اسرائیل کو ان جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔ فلسطینی خواتین کے لیے اس وقت حالات انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں انہیں نہ صرف بمباری بلکہ بھوک، بیماری اور طبی سہولیات کے فقدان کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ احمد ابسائس کی یہ دلیل بین الاقوامی قانون میں ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتی ہے۔ ماضی میں جنگی جرائم کی تعریف میں خواتین کے خلاف تشدد کو اکثر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، تاہم اب قانونی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فلسطینی خواتین پر ہونے والے مظالم کو ایک علیحدہ 'جینوسائیڈل ایکٹ' کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر عالمی سطح پر ان دلائل کو تسلیم کیا جاتا ہے تو یہ اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھانے اور جنگ بندی کے لیے ایک اہم قانونی دستاویز ثابت ہو سکتی ہے۔ فی الحال، دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنان اس مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں کہ فلسطینی خواتین کو درپیش مشکلات اور ان پر ہونے والے جان لیوا حملوں کی ایک غیر جانبدارانہ بین الاقوامی تحقیق ہونی چاہیے۔