Pakistan
کراچی دھرنا اپ ڈیٹ: ٹریفک پولیس کی شہریوں کے لیے اہم ہدایات
جماعت اسلامی کے دھرنے کے باعث کراچی کے مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ٹریفک پولیس نے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
کراچی میں جماعت اسلامی کی جانب سے جاری احتجاجی دھرنا آج اپنے دوسرے روز میں داخل ہو گیا ہے، جس کے پیش نظر شہر کے مختلف اہم مقامات پر ٹریفک کے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ دھرنے کے مقام پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کئی اہم شاہراہوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو معمول کی نقل و حمل میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہری اپنی منزلوں تک پہنچنے کے لیے متبادل راستوں کی تلاش میں پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کراچی ٹریفک پولیس نے شہریوں کے لیے ایک تفصیلی ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق احتجاجی مظاہرے کے باعث شارع فیصل اور دیگر مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی سست روی کا شکار ہے، لہذا شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر سفر کرنا ناگزیر ہو تو متبادل راستوں کا استعمال کریں۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹریفک کو متبادل روٹس کی جانب موڑ دیا گیا ہے تاکہ دھرنے کے شرکاء اور عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور ٹریفک کے نظام کو مفلوج ہونے سے بچایا جا سکے۔
ٹریفک پولیس کا عملہ مختلف مقامات پر تعینات ہے جو گاڑیوں کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے یا ٹریفک جام کی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک پولیس کے تعینات اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائن 1915 سے رابطہ کریں۔ دھرنے کے باعث اسکول جانے والے بچوں، دفاتر جانے والے ملازمین اور ہسپتالوں کا رخ کرنے والے مریضوں کو بھی شدید دقت پیش آ رہی ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے ٹریفک کے بہاؤ کو ممکنہ حد تک بحال رکھنے کے لیے اضافی نفری بھی طلب کر لی ہے۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر آنے والے گھنٹوں میں ٹریفک کی صورتحال مزید تبدیل ہو سکتی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رہنے کے لیے ٹریفک پولیس کے سوشل میڈیا پیجز اور مقامی خبروں پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی بڑی رکاوٹ سے قبل ہی اپنا راستہ تبدیل کیا جا سکے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری اطلاعات پر انحصار کریں۔