Pakistan
موسم کا حال: 17 اگست سے 21 اگست تک شدید بارشوں کا الرٹ
محکمہ موسمیات نے 17 اگست سے 21 اگست کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں موسلا دھار بارشوں اور آندھی کی پیشگوئی کی ہے۔ شہریوں کو خراب موسم کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسم کی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم الرٹ جاری کیا ہے، جس کے مطابق 17 اگست سے 21 اگست تک ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور طوفانی آندھی کا امکان ہے۔ موسم کی یہ پیشگوئی خاص طور پر بالائی علاقوں اور میدانی علاقوں کے مکینوں کے لیے ایک انتباہ ہے تاکہ وہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پہلے سے تیاری کر سکیں۔ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مرطوب ہواؤں کے باعث بارشوں کا یہ سلسلہ شروع ہوگا جو ملک کے بڑے حصے کو متاثر کر سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس پانچ روزہ مدت کے دوران پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف مقامات پر کہیں ہلکی اور کہیں موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔ کچھ مقامات پر موسلادھار بارش کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ریسکیو اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں اور کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال کی نگرانی کریں۔ شہری علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
اس موسمیاتی تبدیلی کے دوران تیز ہواؤں اور آندھی کے ساتھ بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں، جس کے پیش نظر شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کمزور عمارتوں یا درختوں کے نیچے کھڑے ہونے سے احتراز برتیں۔ کسانوں اور سیاحوں کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ موسم کی بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے معمولات طے کریں۔ سیاحوں کو بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 21 اگست تک جاری رہنے والی یہ بارشیں گرمی کی شدت کو کم کرنے کا باعث بنیں گی، تاہم اس کے ساتھ ہی احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ محکمہ موسمیات مسلسل موسم کی نگرانی کر رہا ہے اور جیسے جیسے صورتحال واضح ہوگی، عوام کو تازہ ترین اپ ڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری محکمہ موسمیات کے جاری کردہ درست ڈیٹا پر ہی انحصار کریں۔