LIVE
Loading Breaking News...

پورٹ قاسم گارمنٹ سٹی منصوبہ، لاکھوں ملازمتوں کا اعلان

News Image
پورٹ قاسم میں قائم ہونے والا نیا گارمنٹ سٹی ملک میں صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس منصوبے سے مقامی سطح پر 1 لاکھ 38 ہزار افراد کو براہ راست روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔
پاکستان کی معاشی ترقی اور صنعتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے پورٹ قاسم میں ایک جدید گارمنٹ سٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے، جو ملک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس منصوبے سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 38 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی، جس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ ملکی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے اور اسے عالمی منڈیوں میں مزید مسابقتی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ پورٹ قاسم گارمنٹ سٹی میں جدید ترین مشینری اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کو یہاں صنعتیں قائم کرنے کے لیے سازگار ماحول مل سکے۔ اس زون کا قیام غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور مقامی صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں اس بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے ملک کی معیشت کو استحکام ملے گا اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ ماہرین معیشت کے مطابق، اس اقدام سے پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی، کیونکہ یہ گارمنٹ سٹی بڑے پیمانے پر ملبوسات کی تیاری اور ان کی عالمی سطح پر ترسیل کے لیے ایک مرکز کا کردار ادا کرے گا۔ منصوبے کے تحت تربیت یافتہ افرادی قوت کی مانگ میں اضافہ ہوگا، جس کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف تکنیکی تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کارکنوں کی مہارتوں کو نکھارنے کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف ہنر مند افراد کو باعزت روزگار ملے گا بلکہ ملک میں صنعتی کلچر کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ پورٹ قاسم کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر، اس گارمنٹ سٹی سے سامان کی ترسیل اور لاجسٹک کے مسائل میں بھی کمی آئے گی، جس سے پیداواری لاگت کم ہوگی اور مصنوعات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت مسابقتی رہے گی۔ مجموعی طور پر، پورٹ قاسم گارمنٹ سٹی کا قیام حکومت کی ان صنعتی پالیسیوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد پاکستان کو ایک مضبوط برآمدی ملک بنانا ہے۔ آنے والے وقتوں میں، یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے، جس سے لاکھوں خاندانوں کا معیار زندگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہیں تاکہ اسے جلد از جلد فعال کیا جا سکے اور ملک میں معاشی سرگرمیوں کا پہیہ تیزی سے چل سکے۔