Technology
جنوبی افریقہ کی توانائی کی صورتحال اور شمسی ٹیکنالوجی کا مستقبل
جنوبی افریقہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک ایسی شمسی ٹیکنالوجی کو نظر انداز کر رہا ہے جو سورج غروب ہونے کے بعد بھی بجلی فراہم کر سکتی ہے۔
جنوبی افریقہ کو اس وقت اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ملک میں بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ یعنی 74 فیصد اب بھی کوئلے سے چلنے والے پاور اسٹیشنوں سے حاصل ہوتا ہے، جو کہ آہستہ آہستہ اپنی مدت پوری کر رہے ہیں۔ اگلے دو دہائیوں کے دوران جنوبی افریقہ کو اپنی بجلی کی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بڑے متبادل نظام کی ضرورت ہے، تاکہ صنعتی اور گھریلو صارفین کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ ایسی سولر ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہا ہے جس میں سورج غروب ہونے کے بعد بھی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ عام طور پر فوٹو وولٹک سولر پینلز صرف دن کی روشنی میں کام کرتے ہیں، لیکن جدید 'کنسنٹریٹڈ سولر پاور' (سی ایس پی) جیسی ٹیکنالوجیز تھرمل اسٹوریج کے ذریعے رات کے وقت بھی بجلی فراہم کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو نظر انداز کرنا ملک کے توانائی کے مستقبل کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ گرڈ کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر جنوبی افریقہ اپنی توانائی کی حکمت عملی میں ان جدید شمسی نظاموں کو شامل کرے، تو وہ نہ صرف کوئلے کے پاور پلانٹس پر انحصار کم کر سکے گا بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ملک میں دھوپ کی وافر دستیابی اس ٹیکنالوجی کے نفاذ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کریں اور توانائی کے ایسے ذرائع کو اپنائیں جو دیرپا اور پائیدار ہوں۔
آخر میں، جنوبی افریقہ کے لیے کوئلے سے متبادل توانائی کی طرف منتقلی صرف ایک تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ اگر پالیسی ساز جلد ہی اپنی توجہ ان جدید شمسی ٹیکنالوجیز کی جانب مبذول نہیں کرتے، تو ملک کو مستقبل میں بجلی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جدید تکنیکی اقدامات اور درست منصوبہ بندی سے ہی جنوبی افریقہ اپنے روشن مستقبل کو یقینی بنا سکتا ہے۔