LIVE
Loading Breaking News...

اولوبونمی ٹونجی اوجو کی وزارت داخلہ میں اہم اصلاحات اور الیکٹرانک نظام

News Image
نائجیریا کے وزیر داخلہ اولوبونمی ٹونجی اوجو نے اپنی وزارت میں الیکٹرانک خط و کتابت کا نظام متعارف کروا کر ادارہ جاتی نظم و ضبط کو ایک نئی جہت دی ہے۔ ان کی اصلاحات صرف پاسپورٹ کے حصول تک محدود نہیں بلکہ وزارت کے تمام شعبوں میں شفافیت اور کارکردگی کو فروغ دینا ہے۔
نائجیریا کے وزیر داخلہ اولوبونمی ٹونجی اوجو نے اپنی وزارت کے امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ اگرچہ عوامی سطح پر ان کی اصلاحات کو بنیادی طور پر پاسپورٹ کے حصول کے عمل کو تیز اور آسان بنانے کے حوالے سے جانا جاتا ہے، تاہم ان کے کام کا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ وزیر داخلہ کا ماننا ہے کہ کسی بھی سرکاری ادارے کی کامیابی کا انحصار اس کے اندرونی نظم و ضبط اور شفافیت پر ہوتا ہے، جس کے لیے انہوں نے ٹیکنالوجی کے استعمال کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس پالیسی کا سب سے اہم پہلو وزارت کے تمام ماتحت محکموں اور ایجنسیوں کے مابین الیکٹرانک خط و کتابت کا نظام متعارف کرانا ہے۔ اس ڈیجیٹل تبدیلی کے نتیجے میں پرانے اور سست رو کاغذی ریکارڈ کے نظام کو ختم کر کے ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس سے فائلوں کی نقل و حرکت اور فیصلوں میں تیزی آ گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف سرخ فیتہ شاہی کا خاتمہ ہے بلکہ سرکاری افسران کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرنا بھی ہے۔ اس کے ذریعے مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹونجی اوجو کی جانب سے متعارف کرایا گیا یہ ادارہ جاتی نظم و ضبط نائجیریا کے سرکاری شعبے کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ الیکٹرانک کرسپانڈنس یعنی ڈیجیٹل خط و کتابت کے نظام سے بدعنوانی کے امکانات کم ہوئے ہیں اور عوامی خدمات کی فراہمی میں شفافیت آئی ہے۔ وزیر داخلہ کی یہ حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر سیاسی عزم موجود ہو تو پرانے فرسودہ نظام کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیزی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے وزارت داخلہ کا ہدف یہ ہے کہ پاسپورٹ اور دیگر امیگریشن خدمات کے علاوہ بھی وزارت کے تمام امور کو مکمل طور پر پیپر لیس بنایا جائے۔ ٹونجی اوجو کے ناقدین اور حامی دونوں ہی اس بات پر متفق ہیں کہ پاسپورٹ کے معاملے میں عام شہریوں کو ملنے والی سہولت اصل میں ایک بڑے انتظامی ڈھانچے کی بحالی کا پیش خیمہ ہے۔ اس اصلاحاتی عمل نے نہ صرف وزارت کی ساکھ کو بہتر بنایا ہے بلکہ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بھی بحال کیا ہے جو کہ کسی بھی ترقی پذیر ملک کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط ہے۔