LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں نوجوانوں کے لیے ملازمت کا بحران اور بدلتی صورتحال

News Image
برطانیہ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان اور کمپنیوں کی جانب سے گریجویٹ بھرتیوں میں کمی کے باعث نوجوانوں کے لیے کیریئر کا آغاز مشکل ہو گیا ہے۔ نوجوان اب تجربہ حاصل کرنے کے لیے مفت کام کرنے اور مہنگے کیریئر کوچنگ پروگرامز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
برطانیہ میں اس وقت نوجوان نسل کو ملازمت کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجہ روایتی انٹری لیول (ابتدائی سطح) کی ملازمتوں کا سکڑنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے پھیلتے ہوئے اثرات نے ان تمام اسامیوں کو متاثر کیا ہے جن پر عام طور پر نئے گریجویٹس کام سیکھتے تھے یا اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کرتے تھے۔ بہت سی کمپنیاں اب ان روایتی کرداروں کو ختم کر کے خودکار نظام یا AI ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بھرتیوں کے کوٹے میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ صورتحال نوجوانوں کے لیے ایک پریشان کن معاشی چیلنج کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ روزگار کے اس بدلتے منظر نامے کے پیش نظر، نوجوان اب مجبوری کے عالم میں غیر روایتی راستے اپنانے پر مجبور ہیں۔ تجربہ حاصل کرنے کے نام پر اب بڑی تعداد میں نوجوان مفت انٹرن شپس کرنے یا طویل مدتی غیر معاوضہ ملازمتیں کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، تاکہ ان کے ریزیومے (Resume) میں کچھ وزن پیدا ہو سکے۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ میں 'کیریئر کوچنگ' اور مہنگے مشاورتی پروگراموں کا کاروبار بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ نوجوانوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ مہنگے کورسز انہیں مسابقتی مارکیٹ میں جگہ بنانے میں مدد دیں گے، جس سے ان کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی کے حامی ماہرین کا کہنا ہے کہ AI ملازمتوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کر رہا بلکہ کام کی نوعیت کو بدل رہا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ آنے والے وقت میں ان مہارتوں کی مانگ بڑھے گی جو AI نہیں کر سکتا، تاہم فی الحال، اس تبدیلی کا عمل نوجوانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ تعلیمی اداروں اور حکومتی سطح پر اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ گریجویٹس کو ایسی مہارتیں سکھائی جائیں جو جدید دور کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ اگر فوری طور پر پالیسی سازی نہ کی گئی تو برطانیہ میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مستقل بے روزگاری یا کم اجرت والی ملازمتوں کے بھنور میں پھنس سکتی ہے، جس کے طویل مدتی اثرات معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔