LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں ہیتی تارکین وطن کا ٹی پی ایس ختم، کمیونٹی میں خوف و ہراس

News Image
امریکہ میں ہیتی تارکین وطن کے لیے عارضی پناہ کی حیثیت (ٹی پی ایس) کے خاتمے کے بعد نیویارک کی کمیونٹی میں شدید بے یقینی اور خوف پایا جاتا ہے۔ متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ اپنی مستقبل کی سلامتی کے حوالے سے سخت پریشان ہیں۔
نیویارک میں مقیم ہیتی برادری اس وقت شدید غیر یقینی اور خوف کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے کیونکہ پیر کے روز ان کے لیے عارضی پناہ کی حیثیت یعنی 'ٹیمپریری پروٹیکٹڈ اسٹیٹس' (TPS) کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد متاثرہ تارکین وطن کے سروں پر ملک بدری کی تلوار لٹک رہی ہے اور ان کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو چکی ہے۔ اس پالیسی تبدیلی نے ہزاروں افراد کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے جو طویل عرصے سے امریکہ میں مقیم تھے اور یہاں کے معاشرے کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ مقامی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے کارکنان اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ ہیتی میں جاری سیاسی اور معاشی بحران کے باعث وہاں واپسی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے قانون کے دائرے میں رہ کر محنت مزدوری کر رہے ہیں اور اب اچانک ان سے یہ تحفظ چھین لیا جانا سراسر ناانصافی ہے۔ کمیونٹی کے رہنما حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے تاکہ بے سसहارا افراد کو جبری اخراج سے بچایا جا سکے اور انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کیا جائے۔ اس صورتحال نے پورے خطے میں تارکین وطن کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور تمام لوگ اس سنگین بحران کے پائیدار حل کے منتظر ہیں۔