LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا زلزلہ: ۵۴ ہلاک، ہزاروں افراد امداد کے منتظر اور جشن آزادی متاثر

News Image
انڈونیشیا میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ۵۴ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہزاروں بے گھر افراد امداد کے منتظر ہیں۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے ملک کا یومِ آزادی کا جشن بھی ماند پڑ گیا ہے۔
انڈونیشیا میں حالیہ دنوں آنے والے ایک طاقتور زلزلے نے تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ۵۴ تک پہنچ گئی ہے۔ اس المناک واقعے کی وجہ سے ملک کا یومِ آزادی کا قومی تہوار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور خوشیوں کا رنگ پھیکا پڑ گیا ہے۔ زلزلے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں میں کسمپرسی کی حالت میں امداد کے منتظر ہیں۔ حکام اور امدادی اداروں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم مسلسل آنے والے آفٹر شاکس (aftershocks) کی وجہ سے ریسکیو کے کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس نے پلنگ بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا اور متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ہیوی مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن دور دراز کے علاقوں تک رسائی میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ دوسری جانب متاثرہ عوام نے حکومت اور فلاحی تنظیموں سے فوری طور پر خوراک، صاف پانی اور طبی سہگلات فراہمی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا پہلے ہی زلزلے کی پٹی پر واقع ہونے کی وجہ سے حساس ترین خطے میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس نوعیت کی آفات سے نمٹنے کے لیے مزید موثر حکمت عملی اور ہنگامی تیاریوں کی ضرورت ہے۔