World
جاپان کی معیشت میں سست روی، شرح نمو کے اہداف حاصل نہ ہو سکے
جاپان کی معیشت میں دوسری سہ ماہی کے دوران سست روی کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور جی ڈی پی کی شرح نمو توقعات سے کم رہی ہے۔ کھپت اور سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ سے مجموعی معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
ٹوکیو: جاپان کی معیشت کی رفتار میں دوسری سہ ماہی کے دوران غیر متوقع طور پر سست روی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ سے حکومت اور ماہرینِ معاشیات کے طے کردہ ترقیاتی تخمینے پورے نہیں ہو سکے۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس سہ ماہی میں مجموعی گھریلو پیداوار یعنی جی ڈی پی میں صرف صفر اعشاریہ تین فیصد (0.3%) کا اضافہ ہوا ہے جو کہ مارکیٹ کی توقعات سے کم ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سست روی کی بنیادی وجہ ملکی سطح پر صارفین کی کھپت میں کمی اور نجی شعبے کی جانب سے سرمائے کے اخراجات میں سستی کا رجحان ہے۔ جاپانی معیشت جو کہ پہلے ہی عالمی کساد بازاری اور افراطِ زر کے دباؤ کا شکار ہے، کے لیے یہ اعداد و شمار ایک نیا چیلنج لے کر آئے ہیں۔ حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے معیشت کو سہارا دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم روزمرہ کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور تنخواہوں میں سست اضافے کی وجہ سے عام شہریوں کی قوتِ خرید متاثر ہوئی ہے جس کا براہِ راست اثر ملکی تجارت اور پیداوار پر پڑ رہا ہے۔ تجارتی حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ اگر کھپت کا رجحان اسی طرح کم رہا تو آنے والے مہینوں میں معاشی بحالی کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔ مرکزی بینک کے پالیسی ساز اب اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ مالیاتی فیصلوں میں معیشت کو درپیش ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی جاپانی ین اور اس کی معاشی کارکردگی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔