LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور پاسداران انقلاب کا خفیہ رابطہ، اسلام آباد معاہدے کا پس منظر

News Image
اسلام آباد میں طے پانے والے ایک اہم معاہدے سے قبل امریکہ نے ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) سے مبینہ طور پر خفیہ رابطہ کیا تھا۔ اس پیش رفت کو علاقائی سفارت کاری اور سلامتی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم معاہدے کے تناظر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ نے اس سفارتی پیش رفت سے قبل ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے ساتھ خفیہ رابطے کیے تھے۔ اس بات کا انکشاف بین الاقوامی سفارتی ذرائع کی جانب سے کیا گیا ہے، جس نے خطے کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید تجسس پیدا کر دیا ہے۔ اس طرح کے پس پردہ رابطے اکثر خطے میں کشیدگی کو کم کرنے یا کسی بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ دونوںمخالف فریقین کے مابین اس قسم کا خفیہ مکالمہ اس بات کا غماز ہے کہ پس منظر میں سفارتی کوششیں پوری شدت سے جاری تھیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کو روکا جا سکے۔ اسلام آباد میں طے پانے والا یہ معاہدہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ تھا، جس نے خطے کے امن و استحکام کے لیے نئی راہیں استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کی کامیابی کے پیچھے کئی پوشیدہ تہوں اور رابطوں کا ہاتھ تھا، جن میں امریکی اور ایرانی عسکری و سفارتی حکام کے درمیان ہونے والی یہ خفیہ بات چیت بھی شامل ہے۔ اگرچہ اس رابطے کی باضابطہ تفصیلات فی الحال مکمل طور پر عام نہیں کی گئیں، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرنے میں مدد کی۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کے دور رس نتائج پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے، اور تجزیہ کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ رابطے مستقبل میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ خطے کے دیگر ممالک بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس قسم کے خفیہ رابطے اکثر مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک منظرنامے کو یکسر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔