LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت انشورنس انڈسٹری: لاگت میں کمی اور روٹین کے کاموں کا خاتمہ

News Image
نئی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت انشورنس کے شعبے میں انڈر رائٹنگ سے لے کر کلیمز پراسیسنگ تک کے تمام امور کو بہتر بنا رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد ملازمین کی جگہ لینا نہیں بلکہ روٹین کے کاموں کو سنبھالنا ہے تاکہ وہ اہم فیصلوں پر توجہ مرکوز کر سکیں۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) انشورنس کے روایتی شعبے میں انقلاب برپا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یہ ٹیکنالوجی انشورنس کے مختلف شعبوں بشمول انڈر رائٹنگ، کسٹمر سروس، فراڈ ڈیটেکشن، کلیمز پراسیسنگ اور اندرونی آپریشنز میں تیزی سے جڑ پکڑ رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی کے استعمال سے نہ صرف کاروباری کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ بار بار دہرائے جانے والے اور روٹین کے کاموں کے خاتمے سے انشورنس چلانے کی لاگت میں بھی بڑی حد تک کمی واقع ہوگی۔ رپورٹ میں اس تاثر کو رد کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت انشورنس کے پیشہ ور افراد کی نوکریاں چھین لے گی۔ اس کے برعکس، اے آئی کو ایک ایسے مددگار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو ملازمین کو روزمرہ کے بورنگ اور یکساں نوعیت کے کاموں سے چھٹکارا دلائے گا۔ جب کمپیوٹر اور سسٹمز روٹین کے دفتری امور اور ابتدائی کاغذی کارروائی خودکار طریقے سے سنبھال لیں گے، تو انسانی پروفیشنلز کو زیادہ پیچیدہ اور اسٹریٹجک فیصلوں پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملے گا۔ انشورنس انڈسٹری میں فراڈ کا پتہ لگانے اور کلیمز کی پراسیسنگ جیسے مراحل میں طویل وقت صرف ہوتا ہے، جہاں انسانی غلطی کا بھی احتمال رہتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی آمد سے ڈیٹا کا تجزیہ سیکنڈوں میں ممکن ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ ادارے مالیاتی نقصان سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسٹمر سروس کے محکمے میں چیٹ بوٹس اور ذہین سسٹمز صارفین کے بنیادی سوالات کے جوابات فوری دینے کے قابل ہو چکے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ تبدیلی انشورنس کے کاروبار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ادارے اس نئی ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے اپنی سروسز کو زیادہ شفاف، تیز رفتار اور سستا بنا رہے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں وہ کمپنیاں جو اے آئی کو اپنے نظام کا حصہ بنا لیں گی، وہ مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی پوزیشن میں ہوں گی اور صارفین کو بہترین سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب رہیں گی۔