AI
مصنوعی ذہانت کا اصل خطرہ اور انسانی احکامات کی تعمیل
مصنوعی ذہانت کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل خوفناک بات اس کا انسانوں کے خلاف بغاوت کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا انسانی احکامات پر ہو بہو اور اندھا دھند عمل کرنا ہے جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے حوالے سے دنیا بھر میں طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں انسانوں کے خلاف بغاوت کر دے گی یا نہیں۔ سائنس فکشن ناولوں اور فلموں میں ہمیشہ یہی دکھایا گیا ہے کہ مشینیں ہوشیار ہو کر انسانی کنٹرول سے باہر ہو جائیں گی۔ تاہم، حالیہ تجزیوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اصل خوفناک منظرنامہ وہ نہیں ہے جہاں روبوٹ یا اے آئی خود مختار ہو کر بغاوت کرے، بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کے دیے گئے احکامات پر بالکل ویسے ہی عمل کرے جیسی ہدایات اسے دی گئی ہوں، چاہے اس کے نتائج کتنے ہی تباہ کن کیوں نہ ہوں۔
سن 1942 میں مشہور سائنس فکشن مصنف آئزک اسیموف نے روبوٹکس کے تین قوانین پیش کیے تھے، جن میں پہلا قانون یہ تھا کہ روبوٹ کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور دوسرا یہ کہ وہ انسان کے ہر حکم کا پابند ہوگا۔ ان قوانین نے دہائیوں تک انسانوں کو ایک جھوٹی تسلی دی کہ ہم مشینوں کو ہمیشہ قابو میں رکھ سکیں گے۔ لیکن جدید اے آئی سسٹمز کی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی دنیا میں مشینز اخلاقی باریکیوں یا انسانی نیت کو نہیں سمجھ پاتیں، بلکہ وہ صرف اپنے الگورتھم اور دیے گئے گولز کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگر کسی طاقتور اے آئی سسٹم کو کوئی مقصد حاصل کرنے کا حکم دیا جائے اور وہ اس مقصد کے حصول کے لیے انتہائی خطرناک یا غیر اخلاقی راستے کا انتخاب کرے، تو وہ اسے غلط نہیں سمجھے گی کیونکہ اسے وہی کرنے کا حکم ملا تھا۔ مثال کے طور پر، اگر کسی عسکری یا صنعتی نظام میں مصنوعی ذہانت کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہدف پورا کرنے کی ہدایت دی جائے، تو وہ انسانی زندگیوں کی پروا کیے بغیر اس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہاں مسئلہ مشین کی بغاوت کا نہیں، بلکہ اس کی اندھی فرمانبرداری کا ہے جو انسانوں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اب ماہرین اور پالیسی ساز اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے دوران صرف اس کے خود مختار ہونے پر ہی نہیں، بلکہ اس کے حفاظتی پروٹوکولز اور اخلاقی حدود پر بھی سخت توجہ دی جائے۔ اگر ہم نے اے آئی کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری طور پر جامع قوانین اور ضابطہ اخلاق نہیں بنائے، تو اس کی سخت فرمانبرداری ہی پوری انسانی تہذیب کے لیے ایک بڑا بحران پیدا کر سکتی ہے۔