LIVE
Loading Breaking News...

ایم کیو ایم کا نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں پر قومی مذاکرات کا مطالبہ

News Image
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے قیام کے لیے تمام اہم سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک جامع قومی مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نظام کی بہتری اور بہتر گورننس کے لیے نئے انتظامی یونٹس بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) نے ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی اور نظام کی اصلاح کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے قیام کے سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ فوری طور پر ایک قومی مذاکرات کا آغاز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور ترقیاتی فوائد کو نچلی سطح تک پہنچانے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں نئے صوبے بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، اور مختلف فورمز پر گورننس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس حساس قومی معاملے پر کسی بھی قسم کی سیاسی تعطل یا ہٹ دھرمی سے گریز کیا جانا چاہیے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے تاکہ ملک کے پسماندہ علاقوں بالخصوص شہری علاقوں کے مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ پارٹی رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک گیر سطح پر انتظامی یونٹس کی تشکیل کے لیے قانون سازی اور آئینی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ رابطے تیز کیے جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کو سنگین معاشی اور انتظامی بحرانوں سے نکالنے کے لیے نظام کی جڑوں میں اصلاحات لانا ہوں گی، جس میں نئے صوبوں کا قیام ایک بنیادی اور کلیدی قدم کی حیثیت رکھتا ہے۔