Politics
پاکستان میں پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج
پاکستان میں ایک بڑی سیاسی جماعت نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے نرخوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر سطح پر دھرنے دیئے ہیں۔ حکومت کے لیے اس احتجاجی لہر کے بعد عوامی دباؤ میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان میں مہنگائی، بجلی کے بلوں میں اضافے اور پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی کے خلاف سیاسی میدان گرماگیا ہے۔ ملک کی ایک اہم مذہبی و سیاسی جماعت جماعت اسلامی کی جانب سے ملک بھر میں احتجاجی تحریک اور دھرنوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جس سے موجودہ حکومتی اتحاد کے لیے سیاسی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس احتجاجی تحریک کا مقصد عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نجات دلانا اور حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے اضافی ٹیکسوں کو فی الفور مسترد کرنا ہے۔
دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں ہونے والے ان دھرنوں اور مظاہروں میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستانی عوام پر ظالمانہ ٹیکسز اور پٹرولیم لیوی کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کا جینا محال ہو چکا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء، ٹرانسپورٹ اور یوٹیلیٹی بلز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور متوسط طبقہ اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت پہلے ہی معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی سخت شرائط کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایسے میں جماعت اسلامی کی جانب سے شروع کی جانے والی یہ ملک گیر تحریک حکومت کے لیے ایک اور بڑا امتحان بن گئی ہے۔ عوام میں پائے جانے والے شدید غم و غصے کے پیش نظر حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی لیوی اور ٹیکسوں میں کمی کرے تاکہ مہنگائی کے مارے عوام کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔