LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی یورپ میں اے آئی کا مستقبل: مائیکروسافٹ ایگزیکٹو کا بیان

News Image
مائیکروسافٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ جنوبی یورپ میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل کا فیصلہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسانی مہارتیں کریں۔ خطے کی معیشتوں کو ڈیجیٹل دور میں آگے بڑھنے کے لیے تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہوگا۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے اس دور میں جہاں ہر روز نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے، وہیں ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ صرف جدید ماڈلز اور سافٹ ویئر کا ہونا کافی نہیں۔ مائیکروسافٹ کے ایک سینئر ایگزیکٹو نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جنوبی یورپ میں مصنوعی ذہانت کے انقلاب کا اصل فیصلہ کن عنصر جدید ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسانی مہارتیں ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کی معیشتوں کو اگر عالمی سطح پر سبقت حاصل کرنی ہے تو انہیں اپنی افرادی قوت کو تربیت دینا ہوگی۔ یہ مکالمہ فورچیون گریس کے سی ای او تاسوس زاخوس کے ساتھ گفتگو پر مبنی ہے، جس میں اس بات پر گہری روشنی ڈالی گئی ہے کہ اے آئی کا دوسرا دور محض ماڈلز کی کارکردگی تک محدود نہیں رہے گا۔ اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ معیشتیں کس طرح ان جدید ٹیکنالوجیز کو اپنی روزمرہ کی پیداواری صلاحیتوں میں ڈھالتی ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی فراہمی ایک الگ مرحلہ ہے لیکن اس کا صحیح استعمال اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ہنر مند افرادی قوت کا ہونا ناگزیر ہے۔ جنوبی یورپ کے ممالک میں اس وقت اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز میں ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ مائیکروسافٹ کے اس موقف نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں اب پالیسی ساز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ روایتی طریقوں کو چھوڑ کر مستقبل کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کی تیاری میں کیسے سرمایہ کاری کی جائے۔ اس سے نہ صرف بے روزگاری کے خدشات کم ہوں گے بلکہ خطے کی معاشی ترقی کو بھی ایک نئی رفتار ملے گی جو آنے والے برسوں میں جنوبی یورپ کو عالمی سطح پر ایک اہم ڈیجیٹل مرکز بنا سکتی ہے۔