LIVE
Loading Breaking News...

ویکی پیڈیا کے بانی جمی ویلز کا مصنوعی ذہانت اور اعتماد پر اہم بیان

News Image
ویکی پیڈیا کے بانی جمی ویلز نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن یہ انسانی سطح کا اعتماد حاصل کرنے میں اب بھی ناکام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں سچی اور قابلِ بھروسہ معلومات کی فراہمی کے لیے انسانی ادارت اور کاوش کا متبادل موجود نہیں ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل انسائیکلوپیڈیا ویکی پیڈیا کے بانی جمی ویلز نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے کردار پر کھل کر بات کی ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے ماڈیولز اور بوٹس اب تیزی سے پیچیدہ ترین سوالات کے جوابات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم وہ ابھی تک انسانی معاشرے میں وہ اعتماد اور اعتبار پیدا کرنے سے قاصر ہیں جو کسی مستند پلیٹ فارم کی شناخت ہوتا ہے۔ جمی ویلز نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی محض الفاظ اور ڈیٹا کے پیٹرن کو جوڑنے کا کام کرتی ہے، لیکن اسے اس بات کی حقیقی سمجھ نہیں ہوتی کہ سچائی کیا ہے اور غلطی کیا ہے۔ ویکی پیڈیا کے بانی نے مزید وضاحت کی کہ ڈیجیٹل دنیا میں معلومات کی درستگی سب سے اہم عنصر ہے۔ آج کے دور میں جب مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس اور سرچ ٹولز عام ہو چکے ہیں، تو غلط معلومات یا فرضی مواد (ہلوسینیشن) پھیلنے کے خطرات بھی اسی تناسب سے بڑھ گئے ہیں۔ اس کے برعکس، ویکی پیڈیا جیسے پلیٹ فارمز پر لاکھوں رضاکار اور ایڈیٹرز دن رات کام کرتے ہیں تاکہ ہر ایک مضمون کے پیچھے حقائق کی تصدیق کی جا سکے۔ جمی ویلز کا یہ ماننا ہے کہ انسانی شراکت، بحث، اور ذمہ دارانہ ادارت ہی وہ بنیادی ستون ہیں جن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس نئے دور میں جہاں بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو ہر شعبے میں متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہیں، وہیں جمی ویلز کا یہ مؤقف اس بحث کو تقویت دیتا ہے کہ انسانی عقل اور اخلاقی ذمہ داری کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اگرچہ اے آئی کے ذریعے کام کی رفتار میں تیزی آئی ہے، لیکن جب بات مستند اور تاریخی حقائق کی آتی ہے تو صارفین اب بھی روایتی اور انسانوں کے ذریعے تصدیق شدہ ذرائع پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ مستقبل میں اے آئی اور انسانی ایڈیٹنگ کا ایک متوازن امتزاج ہی ڈیجیٹل دنیا کو محفوظ بنا سکتا ہے۔