LIVE
Loading Breaking News...

ہوا سے پانی بنانے والی جدید ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف ٹیکساس کی تحقیق

News Image
یونیورسٹی آف ٹیکساس کے محققین نے قدرتی وسائل سے حاصل کردہ ہائیڈرو جیلز تیار کیے ہیں جو خشک ماحول میں بھی ہوا سے نمی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے معمولی سی حرارت کے ذریعے فضا میں موجود پانی کو قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس کے محققین نے ایک ایسی انقلابی تحقیق پیش کی ہے جو آنے والے وقتوں میں پانی کی قلت کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک موثر حل ثابت ہو سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے قدرتی وسائل اور عام بائیو ماس سے ایسے جدید ہائیڈرو جیلز تیار کیے ہیں جو فضا میں موجود نمی کو انتہائی کامیابی کے ساتھ جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ جدید سوربینٹس خشک ترین ماحول اور صحرائی علاقوں میں بھی ہوا سے پانی کے بخارات کو با آسانی اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق اس نظام کا بنیادی اصول انتہائی سادہ لیکن کارآمد ہے۔ جب یہ ہائیڈرو جیلز ہوا سے کافی مقدار میں نمی جذب کر لیتے ہیں، تو اس کے بعد ان پر ہلکی سی حرارت یا سورج کی روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں جیل میں قید پانی کے بخارات مائع شکل میں تبدیل ہو کر الگ ہو جاتے ہیں، جسے آسانی سے کسی بھی برتن میں جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس پورے عمل میں نہ تو کسی پیچیدہ مشینری کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی زیادہ توانائی صرف ہوتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دنیا کے ایسے خطے جہاں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے اور بارشیں کم ہوتی ہیں، وہاں یہ ٹیکنالوجی ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں یہ نیا طریقہ کار سستا بھی ہے اور ماحول دوست بھی ہے کیونکہ اس میں قدرتی بایو ماس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے بعد اب سائنسدان اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے پر تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ عام لوگ اپنے گھروں میں اس کا استعمال کر کے پانی کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ اس کامیابی کو سائنسی حلقوں میں انتہائی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اسے آنے والے دور کی اہم ترین دریافتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔