LIVE
Loading Breaking News...

روسی فوجی طاقت اور یوکرین جنگ کا تجزیہ

News Image
یوکرین تنازعے نے روایتی روسی فوجی قوت کے بارے میں دنیا بھر کے تاثرات کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اس طویل جنگ کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا خستہ حال لیکن اب بھی خطرناک روس سپر پاور کا درجہ برقرار رکھ سکتا ہے؟
یوکرین کے ساتھ جاری طویل اور خوں ریز تنازعے نے روایتی روسی فوجی طاقت کے بارے میں دنیا بھر میں پائے جانے والے روایتی تصورات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جنگ کے آغاز میں ماسکو کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں جو بلند بانگ دعوے کیے جا رہے تھے، وہ زمینی حقائق کے سامنے زیادہ دیر ٹک نہ سکے۔ یوکرین کی مزاحمت نے روسی جنگی مشینری میں موجود سنگین نقائص اور کمزوریوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے، جس سے اس بات کا اعادہ ہوتا ہے کہ جدید جنگی میدان میں محض تعداد ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔ اب جب کہ اس فل اسکیل جنگ کو طویل عرصہ گزر چکا ہے، روسی افواج کو شدید نوعیت کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لاجسٹکس کے مسائل، حکمت عملی کی خامیاں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں درپیش رکاوٹوں نے ماسکو کو اپنی عسکری پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگرچہ روسی فوج نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حکمت عملی میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں اور وہ اب بھی میدانِ جنگ میں ایک خطرناک اور اثر انداز قوت کے طور پر موجود ہے، لیکن اس کی کارکردگی نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان تمام چیلنجز کے پس منظر میں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ایسا ملک جو اپنی روایتی جنگی صلاحیتوں کو اس حد تک شدید دباؤ میں پائے، وہ عالمی سطح پر سپر پاور ہونے کا دعویٰ برقرار رکھ سکتا ہے؟ ماضی میں سوویت یونین کی میراث اور روایتی فوجی برتری کی بنیاد پر روس کو دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں شمار کیا جاتا تھا، مگر موجودہ حالات نے اس دعوے کو سخت چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ماسکو اب بھی جوہری ہتھیاروں اور وسیع وسائل کی بنا پر ایک عالمی کھلاڑی ہے، تاہم اس کی عسکری کمزوریوں کے عیاں ہونے کے بعد طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ مستقبل میں روس کے لیے اپنی سپر پاور کی حیثیت منوانا اور عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بحال رکھنا پہلے جتنا آسان نہیں رہے گا، اور اسے اپنی معاشی اور عسکری بنیادوں کو ازسرنو استوار کرنا ہوگا۔