World
سوڈان کے مہاجرین چاڈ کے کیمپوں میں پانی کی قلت کا شکار
سوڈان میں جاری خونریز خانہ جنگی سے جان بچا کر چاڈ کے پناہ گزین کیمپوں میں پہنچنے والے ہزاروں خاندان اب پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ مصائب کے مارے ان مہاجرین کے اندر اپنے آبائی وطن واپس لوٹنے کی امیدیں بھی مدہم پڑتی جا رہی ہیں۔
سوڈان میں جاری تباہ کن جنگ اور انسانی مظالم سے جان بچا کر پڑوسی ملک چاڈ کے پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لینے والے بے گناہ خاندان اب ایک نئے اور شدید بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ خیمہ بستیوں میں زندگی گزارنے والے ان متاثرین کو اس وقت شدید ترین پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے، جس نے ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں افراد روزمرہ کی بنیادی ضروریات بالخصوص صاف پانی کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں، جو ان کی جسمانی اور ذہنی اذیت کو مزید بڑھا رہا ہے۔
یاد رہے کہ یہ تمام افراد سوڈان میں پھوٹ پڑنے والی خانہ جنگی اور بدترین مظالم سے فرار ہو کر کٹھن راستوں سے گزرتے ہوئے چاڈ کی سرحد تک پہنچے تھے۔ یہاں پہنچنے کے بعد انہیں امید تھی کہ کم از کم بنیادی انسانی سہولتیں اور پرامن ماحول میسر آئے گا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے۔ کیمپوں میں انتظامات کی ناگفتہ بہ حالت اور امدادی سامان کی مسلسل کمی کی وجہ سے صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے، جو پہلے ہی سے صدمے کا شکار ان مہاجرین کے لیے ایک اور بڑا خطرہ ہے۔
اس بحران کے درمیان، ان خاندانوں کے دلوں میں اپنے گھروں اور آبائی علاقوں کی طرف واپس لوٹنے کی امیدیں بھی تیزی سے مدہم پڑتی جا رہی ہیں۔ سوڈان میں جاری پرتشدد جھگڑوں کے تھمنے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے مہاجرین یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا۔ مقامی اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم ذرائع کی کمی کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔ متاثرہ افراد نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری طور پر مداخلت کرنے اور پانی سمیت تمام ضروری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کی پُر زور اپیل کی ہے۔