Business
امریکی اسٹاکس میں تیزی کے باوجود بٹ کوئن کیوں گر رہا ہے؟ تجزیہ
امریکی اسٹاک مارکیٹس کے ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچنے کے باوجود معروف کریپٹو کرنسی بٹ کوئن کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین اس تضاد کی وجہ مارکیٹ کے اندرونی دباؤ اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کو قرار دے رہے ہیں۔
رواں ہفتے جہاں ایک طرف روایتی مالیاتی منڈیوں بالخصوص امریکی اسٹاک مارکیٹ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی اور اہم اشاریئے ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئے، وہیں دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی کریپٹو کرنسی بٹ کوئن کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ تمام تر سازگار معاشی حالات اور مثبت اشاروں کے باوجود بٹ کوئن رواں ہفتے تقریباً تین فیصد تک نیچے رہنے کی راہ پر گامزن ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے مبصرین کو سوچ میں ڈال دیا ہے کہ روایتی مارکیٹس اور ڈیجیٹل اثاثوں کی رفتار میں یہ نمایاں فرق کیوں پیدا ہو رہا ہے۔
ماہرینِ معاشیات اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، روایتی اسٹاکس اور بٹ کوئن کے درمیان اس طرح کا بڑھتا ہوا عدم تسلسل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت مختلف اثاثوں کی درجہ بندی میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اگرچہ امریکی معیشت کے حوالے سے کچھ مثبت رجحانات سامنے آئے ہیں، لیکن کریپٹو کرنسی کے شعبے میں ریگولیٹری خدشات، بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کا حصول اور لیکویڈیٹی کے مسائل وہ اہم عوامل ہیں جو بٹ کوئن کو اوپر جانے سے روک رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ بٹ کوئن کی کارکردگی کا انحصار صرف امریکی اسٹاک مارکیٹ کی تیزی پر نہیں ہے، بلکہ اس کے اپنے اندرونی فنڈامینٹلز بھی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب تک مارکیٹ میں نئے سرمائے کی بڑی آمد یا کوئی بڑا مثبت محرک سامنے نہیں آتا، بٹ کوئن کا موجودہ سطح پر اتار چڑھاو کا شکار رہنا متوقع ہے۔ تاہم، طویل مدتی سرمایہ کار تحال اس مارکیٹ پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس عارضی کمی کو ایک معمول کی اصلاح قرار دے رہے ہیں۔