LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقیں ڈونلڈ ٹرمپ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی کارروائیوں اور مشقوں کا حجم کم کر رہا ہے۔ شمالی کوریا کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں کے تناظر میں اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم پالیسی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اپنے کلیدی اتحادی جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی آپریشنز اور مشقوں کے دائرہ کار کو محدود کرنے جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کسی حد تک اعتدال پر لانا اور دفاعی اخراجات کا ازسرنو جائزہ لینا ہے۔ تاہم، اس اقدام پر دفاعی ماہرین اور تجزیہ کاروں کی طرف سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ خطے میں شمالی کوریا کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں اور تجربات مسلسل تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، شمالی کوریا نے روایتی طور پر امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے پہلے ہی سخت ردعمل کی دھمکی دی تھی۔ پیانگ یانگ کی حکومت ان مشقوں کو اپنے خلاف جارحیت کی تیاری قرار دیتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اس تازہ فیصلے کے بعد جہاں ایک طرف سفارتی سطح پر نئے مباحثے جنم لے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف عسکری حلقوں میں اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مشقیں کم ہونے سے اتحادی افواج کی مشترکہ جنگی صلاحیت اور تیاری متاثر ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ کوریا کا خطہ طویل عرصے سے عالمی سیاست اور سلامتی کے حوالے سے انتہائی حساس مانا جاتا ہے۔ امریکہ اور جنوبی کوریا کے مابین دفاعی تعاون خطے میں امن و استحکام کی ضمانت سمجھا جاتا رہا ہے۔ اب جبکہ امریکہ نے فوجی مشقوں میں کمی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، تو اس کے خطے کے سکیورٹی معماری پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف کورین جزیرہ نما کی صورتحال تبدیل ہوگی بلکہ اس کے اثرات عالمی طاقتوں کے باہمی اسٹریٹجک تعلقات پر بھی پڑیں گے۔