LIVE
Loading Breaking News...

علیم خان کی ہزارہ صوبے کی حمایت اور نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ

News Image
وفاقی وزیر علیم خان نے ہزارہ صوبے کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے ملک میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔
وفاقی وزیر علیم خان نے حالیہ بیان میں ہزارہ صوبے کے قیام کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے اور ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہتر گورننس اور عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بیان کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ملک کے مختلف حصوں سے طویل عرصے سے نئے انتظامی یونٹس کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ دوسری جانب، سیاسی منظر نامے پر نئے صوبوں کے قیام اور آئینی ترمیم کے حوالے سے بحث میں تیزی آ گئی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) سمیت دیگر سیاسی جماعتیں بھی ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے قومی سطح پر مکالمے کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ انتظامی بہتری اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے چھوٹے صوبے اور انتظامی یونٹس انتہائی مفید ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ علیم خان کی جانب سے ہزارہ صوبے کی حمایت کے بعد اس معاملے پر ملک کے طول و عرض میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ عوام اور سیاسی کارکنان اس اقدام کو مثبت قرار دے رہے ہیں تاکہ دور دراز کے علاقوں کے مسائل کو مقامی سطح پر فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید سیاسی جوڑ توڑ اور پارلیمنٹ کے اندر بحث متوقع ہے کیونکہ مختلف جماعتیں اس حوالے سے اپنی اپنی تجاویز پیش کر رہی ہیں۔