LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز میں جہاز رانی معطل، پاک و ہند سمیت عالمی منڈی میں ہلچل

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر کی مدت ختم ہونے کے قریب آتے ہی آبِ ہرمز میں تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور رسد کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے سیز فائر کی مدت ختم ہونے کے قریب پہنچنے کے ساتھ ہی دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستے آبِ ہرمز میں تجارتی جہاز رانی تقریباً معطل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں پر صاف محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تجارتی ذرائع کے مطابق جہاز مالکان اور شپنگ کمپنیوں نے ممکنہ عسکری کشیدگی یا تنازع کے خطرے کے پیش نظر اس سمندری راستے پر اپنے جہازوں کی نقل و حرکت عارضی طور پر روک دی ہے، تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور سرمایہ کار انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبِ ہرمز دنیا کے ان چند انتہائی حساس مقامات میں شامل ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر اس آبی گزرگاہ پر نقل و حرکت طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو اس کے براہ راست اثرات عالمی معیشت، ایندھن کی قیمتوں اور افراط زر پر مرتب ہوں گے، جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار عالمی منڈیوں پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ دوسری جانب، امریکہ اور ایران کے مابین جاری سفارتی کوششیں اور مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں، جس کی وجہ سے خطے میں پائی جانے والی کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے مالیاتی اداروں اور ریسرچ گروپس کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید نازک ہو سکتی ہے اور کاروباری حلقے اس تمام معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار سونے اور دیگر محفوظ اثاثوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں جبکہ تیل کی منڈیوں میں بھی رسد کے خدشات کے باعث اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔