LIVE
Loading Breaking News...

برنہم اور وائٹ ہاؤس کا جعلی نقال، اہم سیکورٹی خلاف ورزی کی خبر

News Image
برطانیہ کے اعلیٰ حکام کو اس وقت سکیورٹی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب اینڈریو برنہم نے وائٹ ہاؤس کے ایک نقال کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کیا۔ اس سکیورٹی خلاف ورزی کی پہلی رپورٹ پولیٹیکو نے شائع کی تھی جس پر ڈاؤننگ اسٹریٹ نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
برطانوی سیاسی حلقوں میں اس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی جب یہ انکشاف سامنے آیا کہ معروف برطانوی سیاستدان اینڈریو برنہم نے لاعلمی میں وائٹ ہاؤس کے ایک جعلی نقال کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔ اس واقعہ کو سرکاری سطح پر ایک بڑی سکیورٹی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے اعلیٰ سطحی مواصلاتی نظام اور سکیورٹی پروٹوکولز پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس پورے معاملے کی سب سے پہلے رپورٹ مشہور میڈیا ادارے پولیٹیکو کی جانب سے جاری کی گئی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کس طرح ایک نامعلوم شخص نے وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیدار کا روپ دھار کر برطانوی رہنما کے ساتھ رابطہ قائم کیا اور کامیابی کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کیا۔ اس سکیورٹی سقم کے سامنے آنے کے بعد برطانوی حکومت کے اندرونی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور متعلقہ اداروں کی طرف سے جانچ پڑتال شروع کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، جب اس حساس معاملے پر برطانوی حکومت کے مرکزی دفتر یعنی ڈاؤننگ اسٹریٹ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس سکیورٹی خلاف ورزی پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے سختی سے انکار کر دیا۔ حک ترجمان کی طرف سے اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے جانے سے قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات بین الاقوامی سطح پر شخصیات کی سکیورٹی اور ڈیجیٹل مواصلات کی حفاظت پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے نمٹنے کے لیے اب حکومتی اداروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کریں تاکہ کوئی بھی جعلی نقال اعلیٰ سطح کے حکام تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید اہم انکشافات متوقع ہیں کیونکہ سیاسی اور سیکورٹی ماہرین اس واقعے کی تہہ تک جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔