LIVE
Loading Breaking News...

کیمبرج یونیورسٹی: جیسن آردے کے معاملے پر چانسلر کا سخت ردعمل

News Image
کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آردے، جو حالیہ دنوں میں پلگiarism کے تنازع کی زد میں آئے تھے، گزشتہ ہفتے مردہ پائے گئے۔ یونیورسٹی کے چانسلر نے ان کی وفات کے بعد ان کے خلاف اٹھنے والے نسلی تعصب اور ہنگامے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آردے، جو حال ہی میں تعلیمی اور تحقیقی حلقوں میں پلگiarism یعنی علمی سرقہ کے ایک تنازع کے مرکز بنے ہوئے تھے، گزشتہ ہفتے اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد تعلیمی دنیا میں کہرام مچ گیا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اس تنازع کے درمیان کیمبرج یونیورسٹی کے چانسلر نے اس پورے معاملے کو ایک 'نسلی تعصب پر مبنی ہنگامہ' قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چانسلر کا کہنا ہے کہ جیسن آردے کو جس طرح سے نشانہ بنایا گیا اور میڈیا اور تعلیمی حلقوں میں ان کے خلاف ماحول گرم کیا گیا، وہ انتہائی افسوسناک اور غیر منصفانہ تھا۔ جیسن آردے کا شمار دنیا کے ممتاز تعلیمی ماہرین میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے تعلیمی میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔ ان کے کیریئر اور شخصیت کو اس تنازع کی آڑ میں جس طرح نشانہ بنایا گیا، اس نے تعلیمی اداروں میں پائی جانے والی تعصب کی جڑوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور قریبی ساتھیوں کی جانب سے ان کی اچانک موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ علمی تحقیقات میں غلطیوں یا تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک متوازن اور منصفانہ طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے، نہ کہ کسی شخص کی توہین یا اس کے خلاف منظم مہم چلائی جائے۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ سمیت دنیا بھر میں تعلیمی اداروں کے اندر نسلی امتیاز اور پروفیسرز کے ساتھ ہونے والے رویوں پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس افسوسناک سانحے کے بعد تعلیمی اداروں کو اپنے اندرونی احتساب اور رویوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی محقق یا استاد کو اس قسم کے دباؤ اور تضحیک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔