LIVE
Loading Breaking News...

سینس بريز نے اے آئی کیمروں کا استعمال روک دیا

News Image
برطانوی سپر مارکیٹ چین سینس بریز نے غلط طریقے سے چور قرار دیے جانے والے ایک خریدار کے واقعے کے بعد مصنوعی ذہانت پر مبنی کیمروں کا استعمال معطل کر دیا ہے۔ متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ اسے سٹور سے باہر نکال دیا گیا تھا جس پر کمپنی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
برطانوی سپر مارکیٹ چین سینس بريز نے مصنوعی ذہانت پر مبنی کیمروں کے نظام کو عارضی طور پر روک دیا ہے کیونکہ حال ہی میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک خریدار کو غلطی سے دکان سے چوری کرنے والا سمجھ لیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب میٹ آرنلڈ نامی خریدار کو مبینہ طور پر سٹور کے اندر غلط فہمی کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا اور انہیں سٹور سے باہر جانے کا کہہ دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد صارفین کی پرائیویسی اور اے آئی سسٹمز کی درستگی پر ایک بار پھر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ میٹ آرنلڈ نے اس واقعے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پر اندھا اعتماد کرنے سے معصوم افراد کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت اور محض ایک خودکار سسٹم کے اشارے پر کسی کو چور قرار دینا انتہائی نامناسب اور توہین آمیز ہے۔ اس واقعے کے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر آنے کے بعد عوام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس کے پیش نظر سپر مارکیٹ انتطامیہ نے فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ سینس بريز کے ترجمان نے اس واقعے کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اس پورے معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہے ہیں اور جب تک اے آئی سسٹمز کی درستگی کو سو فیصد یقینی نہیں بنایا جاتا، اس ٹیکنالوجی کا استعمال معطل رہے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گاہکوں کا احترام اور ان کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کا دوبارہ کبھی سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اس بحث کو ہوا دے دی ہے کہ کیا کاروباری اداروں کو سکیورٹی کے لیے مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنا چاہیے یا نہیں، بالخصوص جب انسانی فیصلے اور مداخلت کی کمی کی وجہ سے عام شہریوں کو اس قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے۔