LIVE
Loading Breaking News...

پرندوں کی ٹریکنگ اور جدید ٹیکنالوجی - نیکسورا نیوز اردو

News Image
جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب پرندوں کی نقل و حرکت اور رویے کا درست سراغ لگانا ممکن ہو چکا ہے۔ یہ سائنسی طریقے جنگلات کی حیات کے تحفظ اور پرندوں کی بقا کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو رہے ہیں۔
دور جدید میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب انسان کے لیے زمین ہی نہیں بلکہ فضا میں پرواز کرنے والے پرندوں کی زندگی کے راز جاننا بھی ممکن ہو گیا ہے۔ اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا کسی پرندے کا سراغ لگایا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب اثبات میں ہے، اور اب یہ عمل سائنسی تحقیق اور جنگلات کی حیات کے تحفظ کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ پرندوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ماہرین نے مختلف جدید طریقے وضع کیے ہیں جو پرندوں کی پرواز، ان کے ہجرت کے راستوں اور ان کے رویوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ پرندوں کی ٹریکنگ کے لیے استعمال ہونے والے روایتی اور جدید طریقوں میں سب سے عام طریقہ رنگ بندی یا بینڈنگ (Banding) کہلاتا ہے، جس میں پرندے کی ٹانگ پر ہلکے وزن کا ایک چھوٹا سا چھلا ڈالا جاتا ہے۔ تاہم، جدید دور میں سیٹلائٹ ٹریکنگ اور جی پی ایس سسٹمز نے اس شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب چھوٹے سائز کے ریڈیو اور جی پی ایس ٹرانسمیٹر پرندوں کی پشت پر نصب کیے جاتے ہیں، جو سیٹلائٹ کے ذریعے ان کے مقام کی درست معلومات زمین پر موجود محققین تک پہنچاتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنسدان ہزاروں میل کا سفر طے کرنے والے مہاجر پرندوں کی روزانہ کی روٹ اور ان کے مسکن کے بارے میں قیمتی ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں۔ یہ تمام معلومات نہ صرف ماہرینِ حیاتیات کے لیے انتہائی دلچسپ ہوتی ہیں بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پرندوں کی نقل و حرکت کا مطالعہ کرنے سے ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے پرندوں پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، جنگلات اور قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر پالیسیاں بنانے میں بھی یہ ڈیٹا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی یہ پیشرفت ہمیں قدرت کے ان حسین شاہکاروں کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور آنے والی نسلوں کے لیے ان کی بقا یقینی بنانے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔