World
پیرو کی صدر کیکو فوجیموری کی حلف برداری اور احتجاجی مظاہرے
کیکو فوجیموری نے ملک میں جرائم کے خلاف سخت اقدامات کے عزم کے ساتھ پیرو کی نئی صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی اس تقریب کے دوران دارالحکومت لیما میں شدید احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔
پیرو کے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب کیکو فوجیموری نے باضابطہ طور پر ملک کی نئی صدر کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ ان کی حلف برداری کی یہ تقریب ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب ملک کو متعدد اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سب سے نمایاں بڑھتی ہوئی بدامن اور جرائم کی شرح ہے۔ صدر بننے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے ملک بھر میں جرائم کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور امن و امان کی بحالی کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ ان کی انتظامیہ مجرمانہ سرگرمیوں کا صفایا کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ دوسری طرف، اس تقریب کے انعقاد کے ساتھ ہی دارالحکومت لیما کی سڑکوں پر شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے نئی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام اور شفافیت کی ضرورت ہے، اور وہ نئی قیادت کے بعض فیصلوں اور ماضی کی سیاسی کشمکش پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے ہوئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کیکو فوجیموری کے لیے یہ دور حکومت انتہائی چیلنجنگ ہوگا، کیونکہ ایک طرف انہیں ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانا ہے تو دوسری طرف عوام کے ایک بڑے طبقے کے اعتماد کو بحال کرنا ہے جو ان کی صدارت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ نئی حکومت ملک کو اس بحران سے نکالنے اور سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔