LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور مارکیٹ کے بلبلے: ماہرین کی نئی رائے

News Image
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے حوالے سے یہ سوال غلط ہے کہ آیا یہ کوئی بلبلہ ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ آج مصنوعی ذہانت کا کون سا بلبلہ پھٹ رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے شعبے میں جاری سرمایہ کاری اور اس کے ممکنہ بلبلے کے حوالے سے ماہرین نے ایک بالکل نیا اور منفرد زاویہ پیش کیا ہے۔ مارکیٹ کے معروف اسٹریٹجسٹ دھوال جوشی کا کہنا ہے کہ یہ سوچنا کہ آیا مصنوعی ذہانت خود ایک بلبلہ ہے یا نہیں، دراصل ایک غلط سوال ہے۔ ان کے نزدیک اصل اور درست سوال یہ ہونا چاہیے کہ آج کے دن کون سا مخصوص مصنوعی ذہانت کا بلبلہ پھٹ رہا ہے، کیونکہ اس شعبے میں بلبلوں کا کوئی ایک اجتماع نہیں بلکہ بلبلوں کا ایک مسلسل سلسلہ موجود ہے۔ ٹیک انڈسٹری اور مالیاتی مارکیٹس میں حالیہ برسوں کے دوران مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں حیرت انگیز اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار اس نئی ٹیکنالوجی میں اندھا دھند سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ماہرین اسے ایک بڑے معاشی بلبلے سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ تاہم، اسٹریٹجسٹ کا تجزیہ اس عمومی سوچ سے مختلف ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اتنی وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ اس کے اندر مختلف شعبوں اور ذیلی صنعتوں میں الگ الگ معاشی بلبلے جنم لے رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ختم بھی ہو رہے ہیں۔ اس تسلسل کی مثال دیتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں چپ ساز کمپنیوں اور ہارڈویئر مینوفیکچررز کو بے پناہ عروج ملا، جس کے بعد سافٹ ویئر اور جنریٹو اے آئی کے مختلف پلیٹ فارمز کی باری آئی۔ اب چونکہ مارکیٹ مزید پختہ ہو رہی ہے، لہذا سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کون سا سیکٹر حد سے زیادہ قیمتوں کا شکار ہو چکا ہے اور کہاں اصلاح کی گنجائش باقی ہے۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ اے آئی کا انقلاب صرف ایک عارضی رجحان نہیں بلکہ ایک طویل مدتی تبدیلی ہے جس میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس تمام صورتحال میں عام سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کے لیے یہ جاننا انتہائی اہم ہے کہ وہ صرف مجموعی رجحان پر نظر رکھنے کے بجائے انفرادی شعبوں کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیں۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے مختلف پہلو دنیا کے سامنے آ رہے ہیں، معیشت کے ہر شعبے پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ بلبلوں کا سلسلہ مارکیٹ میں کسی بڑے بحران کا سبب بنتا ہے یا پھر ایک مستحکم معاشی بنیاد کی طرف پیش رفت ثابت ہوتا ہے۔