Health
کیا انسان چمپینزی کو حاملہ کرسکتا ہے؟ سائنسی تجزیہ
سائنسی تحقیق کے مطابق انسان اور چمپینزی کے درمیان جینیاتی مماثلت کے باوجود ان میں تولیدی ملاپ ممکن نہیں۔ یہ حیاتیاتی طور پر ناممکن ہے کیونکہ دونوں انواع کے کروموسومز اور جینیاتی ڈھانچے میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
کیا ایک انسان کسی چمپینزی کو حاملہ کرسکتا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو بظاہر عجیب محسوس ہوتا ہے لیکن سائنسی حلقوں اور تجسس کی دنیا میں اس پر طویل عرصے سے بحث کی جاتی رہی ہے۔ اس کا واضح اور قطعی جواب نفی میں ہے یعنی یہ حیاتیاتی طور پر بالکل ناممکن ہے۔ اگرچہ انسان اور چمپینزی ڈی این اے کی سطح پر بہت زیادہ مماثلت رکھتے ہیں اور ان کا جینیاتی اشتراک تقریباً اٹھانوے فیصد تک بتایا جاتا ہے، لیکن یہ معمولی سا جینیاتی فرق بھی تولیدی عمل کی راہ میں ایک ناقابل عبور دیوار ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق جانداروں کی مختلف اقسام کے درمیان اولاد پیدا کرنے کے لیے کروموسومز کی تعداد اور ان کی ساخت کا مطابقت رکھنا ضروری ہوتا ہے جو کہ انسان اور چمپینزی میں ممکن نہیں۔
حیاتیاتی اور جینیاتی اعتبار سے انسان کے پاس تئیس جوڑے یعنی چھیالیس کروموسومز ہوتے ہیں جبکہ چمپینزی کے پاس چوبیس جوڑے یعنی اڑتالیس کروموسومز پائے جاتے ہیں۔ کروموسومز کی تعداد میں یہ فرق اور ان کی اندرونی ترتیب اتنی مختلف ہوتی ہے کہ خلیات کی تقسیم اور تولیدی عمل کا پہلا مرحلہ بھی کامیابی سے طے نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی فرضی یا جبری صورتحال میں ایسا تجربہ کرنے کی کوشش کی بھی جائے تو جینیاتی مادہ ایک دوسرے کو قبول نہیں کرتا، جس کی وجہ سے خلیاتی سطح پر ہی تمام عمل ناکام ہو جاتا ہے۔ تاریخ میں کچھ غیر مصدقہ اور فرضی کہانیوں کا ذکر ضرور ملتا ہے لیکن جدید سائنس اور جینیاتیات نے ان تمام افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ماہرین حیاتیات اور جینیات کا کہنا ہے کہ ڈی این اے میں پائے جانے والے چند فیصد فرق کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دو الگ الگ اقسام کو ملا کر کوئی نئی مخلوق یا تولیدی عمل مکمل کیا جا سکے۔ ارتقائی فاصلے لاکھوں سال پر محیط ہیں اور اس طویل عرصے میں دونوں اقسام کے جینیاتی نظام اتنے مختلف ہو چکے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن چکے ہیں۔ انسان اور چمپینزی کا رشتہ ارتقائی شجرے میں قریبی ضرور مانا جاتا ہے، لیکن تولیدی لحاظ سے وہ مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ اور متضاد دنیا کے باسی ہیں۔
اس موضوع پر مزید بات کرتے ہوئے سائنسدان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عوام میں پھیلنے والی ایسی غلط فہمیوں کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ جینیاتی انجینئرنگ اور ارتقائی بائیولوجی کے اصولوں کے تحت یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قدرت نے ہر جاندار کی افزائش نسل کے لیے ایک مخصوص اور محفوظ نظام بنایا ہے جس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ لہذا انسان اور چمپینزی کے مابین تولیدی تعلق کا سوال محض ایک سائنسی تجسس سے زیادہ کچھ نہیں، جس کی حقیقت حیاتیاتی ناممکنات کے سوا کچھ نہیں۔