Business
کیوبیک باغ میں ژالہ باری سے تحفظ کے لیے جدید کینن کا تجربہ
کیوبیک کے مونٹیریجی خطے میں ایک سیب کے باغ کے مالک نے شدید موسم اور اولوں سے فصلوں کو بچانے کے لیے ایک نایاب ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا ہے۔ یہ انسداد ژالہ باری کینن صدماتی موجوں کے ذریعے اولوں کی تشکیل کو روکتی ہے اور کسانوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہو رہی ہے۔
کیوبیک کے مونٹیریجی کے علاقے میں سیب کے ایک کسان نے اپنی قیمتی فصلوں کو شدید موسمی حالات اور ژالہ باری سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک نایاب اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا رخ کیا ہے۔ سینٹ پول ڈوبٹسفورڈ میں واقع 'ورگر ڈیس بوئس فرینکس' (Verger des Bois-Francs) نامی باغ کے مالک نے اپنے وسیع و عریض رقبے پر انسداد ژالہ باری کینن نصب کی ہے تاکہ اچانک ہونے والی اولوں کی بارش سے پھلوں کو پہنچنے والے نقصان کو روکا جا سکے۔ یہ ٹیکنالوجی خطے کے کسانوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے حالیہ برسوں میں شدید ژالہ باری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جو فصلوں کو منٹوں میں تباہ کر سکتے ہیں۔
کام کرنے کے اس انوکھے طریقہ کار میں، یہ کینن فضا میں صدماتی لہریں (shockwaves) پیدا کرتی ہیں جو بادلوں کے اندر موجود برف کے قطروں کو بڑے اولوں کی شکل اختیار کرنے سے روکتی ہیں۔ جب بھی محکمہ موسمیات کی جانب سے شدید ژالہ باری یا طوفان کا الرٹ جاری کیا جاتا ہے، تو باغ کے مالک اس سسٹم کو فعال کر دیتے ہیں تاکہ ایک حفاظتی ڈھال بن سکے۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں، جن میں مہنگے اینٹی ہیل نیٹ یا دیگر حفاظتی جال بچھانا شامل ہیں، یہ کینن کا طریقہ کار طویل مدت میں زیادہ کارآمد اور بڑے رقبے پر یکساں تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم، ماہرین اور مقامی آبادی کی جانب سے اس ٹیکنالوجی پر ملے جلے ردعمل کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ جہاں اس جدید طریقہ کار کو کسانوں کے لیے ایک بہترین معاشی بچت قرار دے رہے ہیں، وہیں کینن سے پیدا ہونے والی تیز آواز اور دھماکوں کی وجہ سے قریبی رہائشیوں میں شور کی آلودگی کے خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ باغ کے مالک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ مقامی ضابطوں اور کمیونٹی کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ فصلوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے اور پڑوسیوں کو بھی کم سے کم تکلیف ہو۔
اس تجربے کی کامیابی یا ناکامی مستقبل میں کیوبیک اور کینیڈا کے دیگر حصوں کے زراعت دانوں کے لیے ایک اہم مثال بنے گی۔ اگر یہ انسداد ژالہ باری کینن موثر ثابت ہوتی ہے تو آنے والے وقتوں میں دیگر باغات اور زرعی فارمز بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی طرف راغب ہوں گے۔ ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر کسان موسمیاتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، ایسی جدید تکنیکی اختراعات زرعی معیشت کو سہارا دینے میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔