LIVE
Loading Breaking News...

آسٹریلیا سوشل میڈیا پابندی: رپورٹ میں اے آئی غلطیوں کا انکشاف

News Image
آسٹریلیا میں سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے قانون کے پیچھے موجود اہم تحقیقی رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی فاش غلطیاں پائی گئی ہیں۔ سینیٹ کی سماعت کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ اس رپورٹ میں اے آئی ہالوسینیشنز اور ساختہ معلومات شامل تھیں۔
آسٹریلیا میں سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے قانون کی تیاری میں استعمال ہونے والی بنیادی تحقیقی رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کی سنگین غلطیاں پائی گئی ہیں۔ حالیہ سینیٹ کی سماعت کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس متنازعہ قانون سازی کی حمایت کرنے والی رپورٹ میں مبینہ طور پر اے آئی ہالوسینیشنز یعنی مصنوعی ذہانت کی طرف سے گھڑی گئی فرضی معلومات موجود تھیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے یہ بات رکھی گئی کہ جس رپورٹ کو بنیاد بنا کر آسٹریلیا میں کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے دروازے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اس کے اندر کئی تکنیکی اور معلوماتی خامیاں موجود ہیں۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ پالیسی سازی جیسے حساس معاملے میں مصنوعی ذہانت کی غیر مصدقہ یا غلط معلومات پر انحصار کرنا انتہائی تشویشناک بات ہے، جس سے پورے قانون کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ماہرین اور نقادوں کی جانب سے مسلسل یہ انتباہ کیا جا رہا تھا کہ اس نوعیت کے بڑے حکومتی فیصلوں کے لیے سخت ترین اور مستند تحقیقاتی طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، حالیہ انکشافات کے بعد آسٹریلوی حکومت کو اپوزیشن اور تکنیکی ماہرین کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سینیٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ آیا اس رپورٹ کی غلطیوں کی وجہ سے قانون سازی کے نتائج پر نظرثانی کی جائے گی یا نہیں۔ اب تک حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے اس معاملے پر مزید وضاحت سامنے آنا باقی ہے، لیکن اس واقعے نے دنیا بھر میں پالیسی سازی کے دوران مصنوعی ذہانت کے استعمال کے خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس تنازعے کے بعد آسٹریلیا میں سوشل میڈیا پابندی کے اس تاریخی قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے مزید بحث اور تاخیر دیکھنے میں آ سکتی ہے۔