LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ مشقیں کم کرنے کا اعلان

News Image
امریکی صدر نے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی کا اعلان کیا ہے جبکہ ماہرین نے شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے جنگی تجربے کے پیش نظر خبردار کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد خطے میں سکیورٹی کی صورتحال پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر نے جنوبی کوریا کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی لانے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دفاعی ماہرین اور مبصرین کی جانب سے مسلسل یہ انتباہ جاری کیا جا رہا تھا کہ شمالی کوریا کا جنگی تجربہ دن بہ دن بڑھ رہا ہے اور وہ جدید جنگی حکمت عملیوں سے لیس ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں امریکی فیصلے کو خطے کے اتحادیوں کی طرف سے تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے گارڈین اور بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق، امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ خطے میں اخراجات کو کم کرنے اور دوسری حکمت عملیوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف، شمالی کوریا نے ہمیشہ سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کو جارحانہ قرار دیا ہے اور اس پر سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ پیانگ یانگ کی جانب سے ان مشقوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس بات پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا امریکہ اپنے ایشیائی اتحادیوں کے دفاع سے پیچھے ہٹ رہا ہے یا نہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے جنوبی کوریا میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں کیونکہ شمالی کوریا کی فوجی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی تبدیلی کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔