LIVE
Loading Breaking News...

کانگو میں ایبولا کی تاریخ کی بدترین وبا کا آغاز

News Image
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی حالیہ لہر ملک کی تاریخ کی سب سے مہلک وبا بن گئی ہے۔ یہ تیزی سے پھیلنے والی وبا ایبولا کی ایک نایاب قسم بنڈی بگیو کی وجہ سے پھیلی ہے۔
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی حالیہ وبائی صورتحال انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر گئی ہے، جو اب اس افریقی ملک کی تاریخ کی سب سے مہلک اور خطرناک ترین وبا قرار دی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور مقامی طبی حکام کے مطابق یہ وائرس انتہائی تیزی سے اپنے پیر پھیلا رہا ہے اور متاثرہ علاقوں میں صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ صحت کے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اب تک ریکارڈ کی جانے والی سب سے تیزی سے پھیلنے والی ایبولا کی لہر ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اس خطرناک وبا کے پیچھے ایبولا کی ایک نایاب قسم کارفرما ہے جسے بنڈی بگیو (Bundibugyo) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نایاب قسم کی وجہ سے وائرس کی منتقلی اور اس کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے طبی عملے کے لیے بھی شدید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر طبی کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اس موذی مرض کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور بروقت علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ حکومت اور بین الاقوامی تنظیمیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے باہم تعاون کر رہی ہیں۔ قرنطینہ کے سخت اصول نافذ کیے جا رہے ہیں اور عوام میں اس وائرس سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں تاکہ اس تاریخی طور پر سب سے تباہ کن ایبولا وبا پر قابو پایا جا سکے۔