LIVE
Loading Breaking News...

عراق میں امریکی اور سعودی حملے، ایران کی سخت تنبیہ

News Image
امریکہ اور سعودی عرب کی فورسز نے عراق میں تہران کے حامی عسکری گروپوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کسی بھی جارحیت کے شدید نتائج کی دھمکی دی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اس وقت انتہائی خطرناک موڑ آ گیا جب امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ فورسز نے عراق کے اندر تہران کے حامی مسلح گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ حالیہ حملے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے کے اسٹریٹجک امور اور توانائی کے اہم ترین بحری گزرگاہوں پر کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کرتی جا रही ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد عسکری گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور اتحادی ممالک کے مفاد کا دفاع کرنا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں خطے کے اندرونی اور بیرونی سیکورٹی حالات پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی طاقتوں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا لی ہے اور سفارتی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعے کے فوری بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی سطح پر رابطے شروع کر دیے گئے ہیں تاکہ معاملات کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سعودی عرب کی دفاعی فورسز نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے نامعلوم ڈرونز کو کامیابی کے ساتھ مار گرایا ہے۔ مملکت کے دفاعی نظام نے چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطرات کو بروقت ناکام بنایا اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس طرح کی ڈرون کارروائیاں خطے میں پراکسی وار اور فضائی سلامتی کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں، جس سے عسکری ماہرین یہ اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ تصادم کا دائرہ کار دیگر علاقوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں علاقائی ممالک کی سلامتی کے ادارے انتہائی ہائی الرٹ پوزیشن پر چلے گئے ہیں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ تہران کی جانب سے اس تمام صورتحال اور کارروائیوں پر انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تہران کے کنٹرول اور سلامتی کو چیلنج کرنے والی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ایران نے اس امر پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اپنی سمندری گزرگاہوں اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کا سب سے حساس اور اہم ترین راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی فوجی جھڑپ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ ط رسشی اور بیان بازی خطے کو ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔