LIVE
Loading Breaking News...

پرنس ولیم اور پرنس ہری کے تعلقات، شہزادی ڈیانا کی تقریب

News Image
برطانوی شاہی خاندان میں اختلافات کی خبریں تاحال سرگرم ہیں جہاں پرنس ولیم کے لیے اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی یادگار کے موقع پر بھائی پرنس ہری سے دوبارہ ملاقات کرنا انتہائی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ دونوں بھائیوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کی وجہ سے خاندانی تعلقات میں خلیج مزید بڑھ گئی ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق، پرنس ولیم کے لیے اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی کسی بھی یادگار تقریب میں اپنے چھوٹے بھائی پرنس ہری کے ساتھ دوبارہ یکجا ہونا یا خوشگوار ماحول میں ملنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دونوں شہزادوں کے درمیان پچھلے چند برسوں میں جو خلیج پیدا ہوئی ہے، وہ وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔ شاہی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں بھائیوں کے درمیان ذاتی نوعیت کے اختلافات اور ماضی کے تلخ تجربات نے ان کے باہمی تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پرنس ہری کے شاہی ذمہ داریاں چھوڑ کر امریکہ منتقلی اور اس کے بعد شاہی خاندان کے خلاف دیے گئے بیانات اور کتابی انکشافات نے پرنس ولیم کو شدید مایوسی سے دوچار کیا ہے۔ پرنس ولیم بطور مستقبل کے بادشاہ شاہی خاندان کے وقار اور اصولوں کو برقرار رکھنے کے سخت حامی ہیں، جبکہ پرنس ہری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے اقدامات کو شاہی روایت کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی شہزادی ڈیانا کی برسی یا ان کی یاد میں کسی تقریب کا ذکر ہوتا ہے، تو دونوں بھائیوں کے درمیان ملاقات کی خبریں میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں مگر کوئی بھی بڑی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں شہزادے اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی میراث کو یکساں طور پر عزیز رکھتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں، لیکن اب وہ عوامی سطح پر بھی ایک ساتھ کھڑے ہونے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ ماضی میں دونوں بھائی ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے تھے، لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ شاہی شائقین اور مبصرین اس صورتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اگر دونوں بھائی اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مصالحت کی راہ اختیار کریں تو یہ نہ صرف خاندانی وقار کے لیے بہتر ہوگا بلکہ شہزادی ڈیانا کی روح کو بھی حقیقی سکون ملے گا۔