LIVE
Loading Breaking News...

پاور ڈویژن کا سرکلر ڈیٹ میں اضافے پر وزارتِ خزانہ پر الزام

News Image
پاور ڈویژن نے وزارتِ خزانہ کے بجٹ میں کٹوتیوں کو سرکلر ڈیٹ میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ ڈویژن کا کہنا ہے کہ مکمل فنڈز ملتے تو گردشی قرضہ کم ہو کر مزید نیچے آجاتا۔
اسلام آباد میں پاور ڈویژن نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضے میں اکیسویں صدی کے دوران ہونے والے اضافے کا ذمہ دار وزارتِ خزانہ کو قرار دیا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق مالی سال کے اختتام تک ملک کا مجموعی سرکلر ڈیٹ ایک اعشاریہ چھ سات پانچ ٹریلین روپے تک جا پہنچا جبکہ گزشتہ سال یہ ایک اعشاریہ چھ ایک چار ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ میں اٹھانوے ارب روپے کی کٹوتی کی وجہ سے گردشی قرضے میں اکیاون ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔ اگر پاور سیکٹر کو اصل مختص شدہ بجٹ فراہم کیا جاتا تو سرکلر ڈیٹ کم ہوکر ایک اعشاریہ پانچ سات سات ٹریلین روپے تک محدود ہو سکتا تھا۔ پاور ڈویژن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی بجٹ میں پاور سیکٹر کے لیے مجموعی طور پر آٹھ سو تریانوے ارب روپے رکھے گئے تھے لیکن بعد ازاں اس میں مزید کٹوتی کر دی گئی۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ یہ بجٹ کٹائی کسی بھی انتظامی یا آپریشنل نااہلی کا نتیجہ نہیں بلکہ مالیاتی پالیسی اور کٹوتیوں کا عارضی اثر تھا۔ دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت حکومت نے گردشی قرضے کے بہاؤ میں مزید اضافے کو روکنے اور اس کے حجم کو بتدریج کم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ اصلاحاتی عمل کامیابی سے جاری ہے اور ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں بھی نمایاں کمی لائی گئی ہے۔ گزشتہ مالی سالوں کے دوران ان نقصانات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ پاور ڈویژن نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ توانائی کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم بنانے اور صارفین کے لیے مزید بہتر اور قابل اعتماد بنانے کے اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر مکمل طور پر کاربند ہے۔