World
وریندر سنگھ بسویا منشیات اسمگلنگ کیس، این سی بی کی حراست
مبینہ منشیات فروش وریندر سنگھ بسویا کو متحدہ عرب امارات سے بھارت منتقل کرنے کے بعد پونے کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم کو مزید تفتیش کے لیے 21 اگست تک نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی تحویل میں دے دیا ہے۔
بھارت کے معروف منشیات اسمگلنگ کیس میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں مبینہ منشیات کے سرغنہ وریندر سنگھ بسویا کو متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے بھارت منتقل کر دیا گیا ہے۔ پونے کی ایک خصوصی عدالت نے اتوار کے روز کارروائی کرتے ہوئے ملزم وریندر سنگھ بسویا کو اکیس اگست تک نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی تحویل میں دینے کا حکم صادر کیا ہے۔ تفتیشی اداروں کے مطابق ملزم بین الاقوامی سطح پر منشیات کے مذموم کاروبار میں ملوث رہا ہے اور اس کی حوالگی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کیس کی جڑیں کروڑوں روپے مالیت کے اس بڑے منشیات اسکینڈل سے جڑی ہیں جو حال ہی میں پونے اور دیگر علاقوں میں سامنے آیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران حکام نے بڑی مقدار میں میفیڈرون (مفیدورون) اور دیگر ممنوعہ نشہ آور اشیاء ضبط کی تھیں۔ تفتیشی حکام کا ماننا ہے کہ وریندر سنگھ بسویا اس پورے نیٹ ورک کا مرکزی کردار ہے اور بیرون ملک بیٹھ کر اس نے بھارت میں منشیات کی ترسیل کا پورا جال بچھا رکھا تھا۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد اب این سی بی اس نیٹ ورک میں شامل دیگر مقامی اور بین الاقوامی کارندوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
عدالت میں سماعت کے دوران این سی بی کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے اس کے تمام بین الاقوامی رابطوں، مالیاتی لین دین اور منشیات کی ترسیل کے خفیہ راستوں کے بارے میں تفصیلی پوچھ گچھ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کو تفتیش مکمل کرنے کے لیے این سی بی کے حوالے کر دیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس ریمانڈ کے دوران تفتیشی اداروں کو کئی اہم انکشافات متوقع ہیں جو اس بڑے منشیات کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔