Technology
مصنوعی ذہانت کا کلون: موت کے بعد کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی
ایک شخص نے اپنی موت کے بعد دنیا میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنا ایک ڈیجیٹل کلون تیار کیا۔ تاہم، اس کے دوستوں اور خاندان کے افراد نے اس تجربے کو سخت ناپسند کیا ہے۔
انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ موت کے بعد بھی اس کی یادیں اور نشانیاں باقی رہیں۔ قدیم زمانے میں لوگ بڑے بڑے مقبرے اور یادگاریں بناتے تھے تاکہ آنے والی نسلیں انہیں یاد رکھیں۔ مگر جدید دور میں اب ٹیکنالوجی نے اس مقصد کے لیے ایک بالکل نیا اور حیرت انگیز راستہ نکال لیا ہے جسے 'گریفتیک' (Grieftech) کہا جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک شخص نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے اپنا ایک ایسا ڈیجیٹل کلون تیار کیا ہے جو اس کی موت کے بعد بھی اس کے خیالات، انداز اور آواز کے ساتھ زندہ رہے گا۔ یہ ٹیکنالوجی انسان کی زندگی کے دوران اس کے ڈیٹا، تحریروں اور گفتگو کو محفوظ کر کے ایک ایسا ورچوئل انسان بناتی ہے جو بعد میں بھی بات چیت کر سکتا ہے۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی کا عملی استعمال اتنا آسان اور خوش آئند ثابت نہیں ہوا۔ جب اس شخص نے اپنے اس اے آئی کلون کو اپنے دوستوں اور خاندان کے سامنے پیش کیا، تو ان کا ردعمل انتہائی منفی تھا۔ اس کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے اس ڈیجیٹل کلون کو قطعی طور پر مسترد کر دیا اور اس سے نفرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مصنوعی نظام کے ذریعے اصل انسان کی کمی کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔ اپنوں کا خیال ہے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور کسی کی یادوں کو اس طرح ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا جذباتی طور پر تکلیف دہ اور غیر فطری عمل ہے۔
اس واقعے نے ٹیکنالوجی اور اخلاقیات کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت نے ہمیں لامحدود سہولیات فراہم کی ہیں، لیکن انسانی جذبات اور رشتوں کے معاملے میں اس کا استعمال پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ بہت سے ماہرینِ نفسیات کا یہ ماننا ہے کہ پیاروں کی موت کے بعد غم سے نکلنے کے لیے ایک فطری عمل کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس قسم کے اے آئی کلونز سوگوار خاندان کے لیے ذہنی سکون کے بجائے مزید الجھنوں اور اذیت کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس کے باوجود، ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس طرح کے تجربات کرنے والے افراد کا ماننا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس قسم کے ڈیجیٹل اثاثے عام ہو جائیں گے۔ لوگ اپنی موت کے بعد بھی ڈیجیٹل دنیا میں متحرک رہنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی یادیں مٹنے نہ پائیں۔ لیکن فی الحال، اس ابتدائی تجربے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انسانی معاشرہ اور جذباتی رشتے ابھی اس قسم کی مصنوعی تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وقت ہی بتائے گا کہ مستقبل میں یہ متنازع ٹیکنالوجی کس رخ پر آگے بڑھتی ہے اور معاشرتی اقدار اس کو کیسے اپناتی ہیں۔