LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے بلبلے: دھਵل جوشی کی نئی معاشی رپورٹ

News Image
معاشی ماہر دھਵل جوشی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ کسی ایک بڑے بلبلے کی طرح نہیں ہے، بلکہ یہ مسلسل آنے والے چھوٹے بلبلوں کا ایک سلسلہ ہے۔ اس رجحان سے اگرچہ فوری مارکیٹ کے کریش ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، لیکن سرمائے کے غلط استعمال اور طویل مدتی منافع کے حوالے سے شدید خدشات برقرار ہیں۔
معروف معاشی تجزیہ کار دھਵل جوشی نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی مارکیٹ کے حوالے سے ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو محض ایک روایتی اور یکساں معاشی بلبلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ یہ دراصل ایک دوسرے کے بعد آنے والے چھوٹے اور بڑے بلبلوں کا ایک مسلسل سلسلہ ہے۔ اس انوکھے رجحان کے معیشت اور ٹیکنالوجی کی مارکیٹ پر دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اس طرح کے رولنگ بلبلے مارکیٹ میں کسی اچانک اور بڑے پیمانے پر آنے والے کریش کو روک سکتے ہیں، تاہم اس سے سرمایہ کاری کے حوالے سے سنگین خطرات بھی جنم لے رہے ہیں۔ سرمائے کا غلط استعمال اور طویل مدتی منافع کی غیر یقینی صورتحال ایسے مسائل ہیں جو آنے والے دنوں میں صنعت کے لیے دردِ سر بن سکتے ہیں۔ موجودہ معاشی منظر نامے میں جہاں دنیا بھر کے سرمایہ کار مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اندھا دھند رقم لگا رہے ہیں، دھਵل جوشی کا یہ تجزیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس طرح کے تسلسل والے بلبلوں کی وجہ سے قلیل مدت میں تو منافع کمایا جا سکتا ہے لیکن طویل مدتی استحکام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سرمایہ کاروں نے بروقت احتیاط سے کام نہ لیا اور تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشی حقائق کو نظر انداز کیا، تو اس کے نتیجے میں صنعتی ترقی کا رفتار سست ہو سکتی ہے اور عالمی منڈیوں میں عدم توازن پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔