LIVE
Loading Breaking News...

اٹارنی جنرل پاکستان منصور عوان کے گھر چھاپہ: پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج

News Image
لاہور میں اٹارنی جنرل پاکستان منصور عوان کے گھر پر غیر قانونی چھاپہ مارنے اور عملے کو ہراساں کرنے کے الزام میں ایس ایچ او سمیت 11 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق چھاپہ غلطی سے لگایا گیا تھا جبکہ ملزم ایس ایچ او نے عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے۔
لاہور میں اٹارنی جنرل فار پاکستان منصور عوان کی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر غیر قانونی چھاپہ مارنے اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزام میں سرور روڈ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او سمیت 11 پولیس اہلکاروں کو مقدمے میں نامزد کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ 27 جولائی کی شام کو پیش آیا جب پولیس پارٹی نے مبینہ طور پر مرکزی دروازہ پھلانگ کر اٹارنی جنرل کے گھر میں داخلہ لیا اور گھر میں موجود ملازمین کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ باہر رکھے ہوئے گملوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ واقعے کے وقت اٹارنی جنرل منصور عوان ایک اجلاس میں شرکت کی غرض سے گھر سے باہر موجود تھے اور اطلاع ملنے پر اپنی رہائش گاہ واپس پہنچے۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ یہ چھاپہ ہمسایہ گھر میں کچھ مشکوک افراد کی موجودگی کی اطلاع پر مارا گیا تھا، تاہم پولیس ٹیم نے غلطی سے اٹارنی جنرل کی رہائش گاہ میں داخل ہو کر کارروائی کی۔ اس سنگین غفلت اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر مقدمہ درج کرنے کے علاوہ ملزم اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے چارج شیٹ بھی جاری کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب، اٹارنی جنرل کے ڈرائیور عرفان کی طرف سے درج کرائے گئے بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ پولیس ٹیم جاتے ہوئے گھر کا سی سی ٹی وی ریکارڈنگ سسٹم اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ڈی وی آر (DVR) واپس کرنے سے قبل چھاپے کی تمام فوٹیج کو جان بوجھ کر ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور تمام نامزد پولیس اہلکاروں کے خلاف مزید قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔