LIVE
Loading Breaking News...

سوویت دور کے خفیہ ریڈیو ٹیسکوپ کی بحالی کی حیرت انگیز کہانی

News Image
لاطویائی ماہرِ فلکیات جورس ژاگارس نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ 1994 میں سوویت یونین کے چھوڑے گئے ایک خفیہ قصبے کا سفر کیا اور تباہ شدہ ریڈیو ٹیسکوپ کو دوبارہ کارآمد بنایا۔ سرد جنگ کے اس دور میں مغرب کی جاسوسی کے لیے بنائے گئے اس 600 ٹن وزنی آلے کو اب ستارے سننے اور تحقیقاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
سن 1994 میں سوویت افواج کے لاطویہ سے انخلاء کے بعد ایک انتہائی اہم اور پوشیدہ سوویت دور کا ریڈیو ٹیسکوپ منظرِ عام پر آیا۔ لاطویائی ماہرِ فلکیات جورس ژاگارس اور ان کی اہلیہ نے اس ویران اور خفیہ مقام تک ایک طویل سفر طے کیا، جہاں روسی فوجیوں نے اس دیوقامت مشین کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی اور اس پر مبینہ طور پر تیزاب بھی ڈالا گیا تھا۔ یہ 600 ٹن وزنی ٹیسکوپ دراصل سرد جنگ کے دوران مغرب پر جاسوسی کرنے اور خلائی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، جسے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یوں ہی لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا۔ جورس ژاگارس نے اس تباہ حال اور عظیم الشان سائنسی ڈھانچے کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ اگر اس کی مرمت کی جائے تو یہ خلاء اور ستاروں کے مطالعے کے لیے ایک انتہائی طاقتور آلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بغیر کسی بڑے سرکاری وسائل یا جدید مشینری کے اپنی مدد آپ کے تحت اس پر کام شروع کیا۔ اس جوڑے نے اپنی ذاتی محنت، لگن اور استقامت سے اس ویران جگہ پر ڈیرے ڈال لیے اور مشین کے تباہ شدہ حصوں کو جوڑنے کا کٹھن عمل شروع کیا۔ اس بحالی کے منصوبے میں بے شمار تکنیکی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ روسی افواج جاتے وقت اس میں موجود حساس آلات کو شدید نقصان پہنچا چکی تھیں۔ تاہم، اس لاطویائی جوڑے نے ہمت نہیں ہاری اور سرد جنگ کے اس زمانے کے جاسوسی آلے کو ایک پرامن سائنسی ریسرچ سینٹر میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس ریڈیو ٹیسکوپ کی مرمت سے نہ صرف لاطویہ میں فلکیاتی تحقیق کو ایک نیا فروغ ملا بلکہ یہ تاریخ کا ایک انوکھا کارنامہ بھی بن گیا جہاں جنگی مقاصد کے لیے بنائے گئے آلے کو کائنات کے اسرار جاننے کے لیے وقف کر دیا گیا۔