LIVE
Loading Breaking News...

شیاؤمی اٹھارہ الٹرا منسوخ، ویوو اور اوپگو کے الٹرا فونز عالمی سطح پر لانچ نہیں ہوں گے

News Image
ٹیکنالوجی کے ایک معروف ٹپسٹر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ شیاؤمی اپنے متوقع الٹرا ماڈل کو منسوخ کر رہا ہے جس کی جگہ پرو میکس کو سب سے اوپر رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ ویوو اور اوپگو کے نئے الٹرا اسمارٹ فونز بھی صرف چین تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
اسمارٹ فون کی دنیا سے سامنے آنے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق معروف چینی برانڈ شیاؤمی کی جانب سے اپنے آئندہ فلیگ شپ فون 'شیاؤمی اٹھارہ الٹرا' کے حوالے سے بڑے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ انڈسٹری کے ایک جانے مانے ٹپسٹر کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نے اس پریمیم ماڈل کی تیاری کو منسوخ کر دیا ہے اور اب 'پرو میکس' سیریز کو کمپنی کا اعلیٰ ترین فلیگ شپ درجہ دیا جائے گا۔ اس تبدیلی سے شیاؤمی کے شائقین کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو اس ایڈوانس کیمرہ اور فیچرز والے فون کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ صرف شیاؤمی ہی نہیں بلکہ دیگر دو بڑی چینی کمپنیاں ویوو اور اوپگو بھی اپنی الٹرا اسمارٹ فون حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں لا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ویوو اور اوپگو کے آنے والے الٹرا ماڈلز بھی عالمی مارکیٹ میں لانچ نہیں کیے جائیں گے۔ ان دونوں برانڈز کے اعلیٰ درجے کے الٹرا اسمارٹ فونز کے صرف چینی مارکیٹ تک ہی محدود رہنے کا قوی امکان ہے، جس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی صارفین ان جدید ترین خصوصیات سے محروم رہ سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے پیچھے مختلف تجارتی اور مارکیٹنگ وجوہات بتائی جا رہی ہیں جن میں عالمی سطح پر اسمارٹ فونز کی طلب میں تبدیلی اور لاگت کا کنٹرول سرفہرست ہیں۔ کمپنیاں اب اپنے وسائل کو مخصوص خطوں اور زیادہ فروخت ہونے والے ماڈلز پر مرکوز کرنا چاہتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ الٹرا فلیگ شپ اسمارٹ فونز کی مارکیٹ میں مقابلہ انتہائی سخت ہو چکا ہے اور کمپنیاں اب اپنے منافع کے حاشیے کو برقرار رکھنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ ان خبروں پر شیاؤمی، ویوو یا اوپگو کی جانب سے کوئی حتمی اور سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم انکشافات نے عالمی تکنیکی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بین الاقوامی صارفین اور ٹیک اینگلز اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا یہ کمپنیاں اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرتی ہیں یا مستقبل میں عالمی مارکیٹ کے لیے کوئی متبادل پریمیم ڈیوائسز متعارف کروائی جاتی ہیں۔ تب تک، یہ اطلاعات موبائل انڈسٹری کی بدلتی ہوئی ترجیحات کا واضح اشارہ فراہم کرتی ہیں۔